ہومتازہ ترینمصنوعی ذہانت کی ترقی سے چین کا شمال مغربی خطہ ڈیٹا پروسیسنگ...

مصنوعی ذہانت کی ترقی سے چین کا شمال مغربی خطہ ڈیٹا پروسیسنگ کا عالمی مرکز بننے لگا

چین کے توانائی سے مالا مال شمال مغربی خطے کے بنجر مناظر میں اب نئی نوعیت کے مراکز ابھر رہے ہیں۔ تیل نکالنے والی تنصیبات کی جگہ اب کمپیوٹنگ ریکس کی قطاروں نے لے لی ہے۔

سنکیانگ ویغور خودمختار علاقے کے شہر ہامی میں واقع تیان شان سمارٹ ویلی ایڈوانسڈ کمپیوٹنگ کلسٹر کے 200 مربع میٹر کے کمرے میں سینکڑوں سرورز دن رات مسلسل فعال ہیں۔صرف ایک سال سے کچھ زیادہ عرصے میں ٹیلی کام کمپنیاں، ای کامرس پلیٹ فارمز اور ٹیکنالوجی ادارے اس نسبتاً کم معروف شہر میں منتقل ہو چکے ہیں۔

یہ تیزی سے بڑھتا ہوا رجحان اس بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے کہ چین کا توانائی سے مالا مال شمال مغربی خطہ مصنوعی ذہانت کے عروج سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کم لاگت کمپیوٹنگ مرکز بنتا جا رہا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے باعث بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب نے سنکیانگ اور گانسو جیسے اس کے پڑوسی صوبوں کو کمپنیوں کے لئے پرکشش مقام بنا دیا ہے۔ سورج کی روشنی اور ہوا سے حاصل ہونے والی وافر توانائی کے باعث یہ علاقے ساحلی صنعتی بجلی کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی قیمت پر ماحول دوست بجلی فراہم کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر ہامی میں قائم کسی کمپیوٹنگ کمپنی کے آپریشنل اخراجات چین کے مشرقی علاقے کے مقابلے میں 40 فیصد سے بھی بہت کم ہیں۔ گانسو کا شہر چنگ یانگ خطے کے نمایاں کمپیوٹنگ مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں ٹیلی کام کمپنی چائنہ موبائل کی ایک شاخ نے انکشاف کیا ہے کہ اس کی ماہانہ بچت 5 لاکھ 85 ہزار امریکی ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

اس خطے کی نسبتاً ٹھنڈی آب و ہوا اور کم قیمت زمین بھی اس کی کشش میں اضافہ کرتی ہے جس کے باعث ایئر کنڈیشننگ اور آپریشنل اخراجات چین کے بڑے مشرقی شہروں کے مقابلے میں کم رہتے ہیں۔

ان کمپیوٹنگ مراکز کا بنیادی مقصد ماحول دوست توانائی کو مصنوعی ذہانت کی تربیت اور استدلال کے ذریعے کمپیوٹنگ طاقت میں تبدیل کرنا ہے جس کے نتیجے میں ٹوکنز پیدا ہوتے ہیں۔ ان ٹوکنز کو اے آئی ماڈلز میں معلوماتی پروسیسنگ کی سب سے چھوٹی اکائی سمجھا جاتا ہے۔

ڈیپ سیک اور علی بابا کے ماڈل چھوین جیسے اے آئی ماڈلز مشرقی شہروں میں قائم ہیں۔سوچ بچار سے متعلق درخواستیں شمال مغرب میں موجود سرورز پر پروسیس کی جاتی ہیں۔ ان میں سے کچھ درخواستیں شمالی امریکہ، یورپ اور ایشیا بحرالکاہل کے علاقے میں بیرون ملک کاروباری مقاصد کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔ ان اے آئی ماڈل فراہم کرنے والوں کے صارفین ٹوکن کے استعمال کے مطابق ادائیگی کرتے ہیں۔ اس سے حاصل آمدن سےبجلی، اجرتوں اور آلات کے اخراجات کو پورا کر لیا جاتاہے۔ اس طرح ٹوکن کا بہاؤ براہ راست مقامی جی ڈی پی میں حصہ ڈالتا ہے۔

صرف چنگ یانگ میں سال 2025 تک ڈیجیٹل معیشت کی 500 سے زائد کمپنیاں قائم ہو چکی تھیں۔ مقامی حکام نے بتایا کہ ان کمپنیوں کو ایک ارب 28 کروڑ امریکی ڈالر کی آمدن ہوئی اور ان سے لوگوں کو روزگار کے مواقع ملے۔

قومی پالیسی اس تبدیلی کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے۔ ڈیٹا پروسیسنگ کو چین کے گنجان آباد ساحلی شہروں سے توانائی سے مالا مال مغربی اندرونی علاقوں میں منتقل کرنے کی قومی حکمت عملی نے اب زور پکڑ لیا ہے۔ سال 2026 میں "کمپیوٹنگ پاور اور بجلی کے ہم آہنگ استعمال” کا تصور چین کی مرکزی حکومت کی ورک رپورٹ میں پہلی بار شامل کیا گیا۔ رواں ماہ کے شروع میں کئی محکموں نے ایک ایکشن پلان جاری کیا۔ ایکشن پلان میں سال 2030 تک اے آئی کمپیوٹنگ سہولیات اور توانائی کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لئے صاف توانائی کی فراہمی کی سکیورٹی کو نمایاں طور پر بہتر بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

کم لاگت کے علاوہ قابل اعتماد کارکردگی اور رفتار بھی وہ عوامل ہیں جو اہم کردار کرتے ہیں۔ اپ گریڈ کئے گئے نیٹ ورکس نے چنگ یانگ سے بیجنگ یا شنگھائی تک ڈیٹا منتقلی میں تاخیر کو 15 ملی سیکنڈ سے بھی کم کر دیا ہے۔

چین کا شمال مغربی خطہ مقامی طور پر تیار کردہ چپس کی آزمائش کا بھی مرکز بن چکا ہے۔ ہواوے اور دیگر مقامی اے آئی چپس اب بڑے پیمانے پر استعمال کی جا رہی ہیں۔ سال 2026 میں نئے چینی سال کی تعطیلات کے دوران چنگ یانگ کے ایک کمپیوٹنگ مرکز میں اینفلیم کا ایک بڑا کلسٹر فوٹو ایڈیٹنگ ایپ میٹو کے مصنوعی ذہانت پر مبنی ورچوئل ٹرائی آن سسٹم کے لئے اربوں تصویری درخواستوں کے دباؤ کو خوش اسلوبی کے ساتھ سنبھالنے میں کامیاب رہا۔

چین اب صرف توانائی کا ایک ذخیرہ نہیں رہا بلکہ وہ ملک کا ایک اہم اے آئی مرکز بھی بن چکا ہے جہاں سے کمپیوٹنگ طاقت اب مغربی علاقوں کی سمت منتقل کی جا رہی ہے۔

اگرچہ وسطی ایشیا کے کئی ممالک میں بڑے پیمانے کی کمپیوٹنگ سہولیات موجود نہیں تاہم وہاں سیٹلائٹ ریموٹ سینسنگ، زراعت اور توانائی کے معائنے جیسے شعبوں میں ڈیٹا پروسیسنگ کی فوری ضرورت پائی جاتی ہے۔ سنکیانگ ویغور خودمختار علاقے میں قائم کمپیوٹنگ پاور سینٹر کو ایک "ڈیجیٹل پوسٹ سٹیشن” کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے جو چین کے شمال مغربی خطے کو وسطی ایشیا سے جوڑتا ہے۔ وقت کی حساسیت رکھنے والا سیٹلائٹ ڈیٹا خصوصی لنکس کے ذریعے یہاں پہنچتا ہے۔ پھر اسے اے آئی ماڈلز کے ذریعے پروسیس کیا جاتا ہے اور بعد ازاں مخصوص خدمات کی شکل میں واپس بھیج دیا جاتا ہے۔

تاہم کام کا سارا بوجھ مغربی علاقوں کی طرف منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ ویب رسائی، ای کامرس اور آن لائن گیمنگ جیسی خدمات جنہیں ڈیٹا منتقلی میں انتہائی کم تاخیر درکار ہوتی ہے انہیں مشرقی علاقوں میں ہی برقرار رکھنا پڑتا ہے۔

ہامی سے جنوب مغربی شہر چھونگ چھنگ تک ڈیٹا تاخیر تقریباً 50 ملی سیکنڈ ہے جو خودکار ڈرائیونگ اور ٹیلی میڈیسن جیسی فوری ردعمل والی خدمات کے لئے 30 ملی سیکنڈ کی مقررہ حد سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ چین کے شمال مغرب کا انفارمیشن انفراسٹرکچر ساحلی علاقوں کے مقابلے میں ابھی بہت پیچھے ہے جبکہ ہنر مند افرادی قوت کی بھی کمی ہے۔ بڑے پیمانے پر کمپیوٹنگ مراکز کی تیزی سے تعمیر مقامی آلات کی سپلائی اور ترسیلی نظام پر بھی دباؤ ڈال رہی ہے۔

اس کے باوجود مستقبل روشن دکھائی دیتا ہے۔ رواں برس کے آغاز میں والی مورگن سٹینلے کی جاری کردہ رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ سال 2027 تک نئے آرڈرز کا تقریباً 70 فیصد حصہ چین کے ریموٹ ڈیٹا سینٹرز کو ملے گا۔

بجلی کی قلت اب دنیا بھر کے کمپیوٹنگ مراکز کے لئے ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ امریکی ریاست ورجینیا میں ڈیٹا سینٹرز کی بڑی تعداد کے باعث گھریلو بجلی کے بلوں میں نمایاں اضافہ ہوا جبکہ آئرلینڈ میں ڈیٹا سینٹرز قومی بجلی کا 22 فیصد استعمال کر رہے ہیں۔

چین کا دور دراز شمال مغربی خطہ ایک مختلف راستہ پیش کرتا ہے۔ سستی ماحول دوست توانائی اور مقامی چپس بجلی کی کمی کے مسئلے سے بچنے میں مدد دیتے ہیں۔ دوسری جانب سرحد پار ڈیجیٹل راہداری سے علاقائی تعاون میں اضافہ ہو رہا ہے جو مصنوعی ذہانت کے دور میں ایک زیادہ پائیدار مستقبل کی جانب اشارہ کرتی ہے۔

چین اب کمپیوٹنگ پاور کے عالمی پیمانے پر دوسرے نمبر پر ہے۔ کاروباری ماہرین کے مطابق مستقبل کی عالمی اے آئی دوڑ میں زیادہ پیمانے، کم لاگت اور ماحول دوست کمپیوٹنگ سپلائی کو ترجیح حاصل ہوگی اور اس میں چین کا شمال مغربی خطہ بڑھتا ہوا کردار ادا کرے گا۔

سنکیانگ ویغور خودمختار علاقے میں کاشغر جیسے کئی شہر جو کبھی قدیم شاہراہِ ریشم پر نخلستان کی حیثیت رکھتے تھے اب ہامی اور چِنگ یانگ کے راستے پر چلتے ہوئے خود کو اے آئی کمپیوٹنگ مراکز کی صورت میں ترقی دے رہے ہیں۔

یہ شہر چین کی اس وسیع تر حکمت عملی کی ایک چھوٹی جھلک بن چکے ہیں جس کا مقصد خام مال کے بجائے ڈیٹا اور ذہانت کی بنیاد پر اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینا ہے۔

بیجنگ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں