سڈنی (شِنہوا) ذہنی امراض دنیا بھر میں معذوری کی سب سے بڑی وجہ بن گئے ہیں جس نے کینسر اور قلبی امراض کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
یونیورسٹی آف کوئنزلینڈ ، کوئنزلینڈ سنٹر فار مینٹل ہیلتھ ریسرچ اور امریکہ کی یونیورسٹی آف واشنگٹن کے اشتراک سے ہونے والی تحقیق کے مطابق 2023 میں دنیا بھر میں تقریباً 1.2 ارب افراد ذہنی امراض میں مبتلا تھے جو 1990 کے مقابلے میں تقریباً دوگنا تعداد ہے۔
یونیورسٹی آف کوئنزلینڈ کے سکول آف پبلک ہیلتھ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈیمیان سانتومورو نے کہا کہ ذہنی امراض کا بوجھ سب سے زیادہ 15 سے 19 سال کی عمر کے نوجوانوں میں دیکھا گیا جبکہ خواتین میں اس کی شرح مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
یہ تحقیق معروف طبی جریدے دی لانسٹ میں شائع ہوئی جس میں 12 اقسام کی ذہنی بیماریوں کا جائزہ لیا گیا جن میں اضطراب، ڈپریشن، بائی پولر ڈس آرڈر، شیزوفرینیا، آٹزم، توجہ کی کمی اور غیر معمولی سرگرمی کا عارضہ اور کھانے کی خرابیوں سمیت دیگر امراض شامل ہیں۔ اس میں 1990 سے 2023 تک عالمی رجحانات کا تجزیہ کیا گیا۔
محققین نے ذہنی امراض کے بوجھ کو معذوری سے متاثرہ زندگی کا سال (ڈی اے ایل وائی) کے ذریعے ناپا جس کے مطابق ایک ڈی اے ایل وائی کا مطلب زندگی کے ایک صحت مند سال کا ضیاع ہے۔ 2023 میں ذہنی امراض عالمی سطح پر ڈی اے ایل وائیز کی فہرست میں پانچویں نمبر پر آ گئے جبکہ 1990 میں یہ 12ویں نمبر پر تھے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ اس اضافے کی بڑی وجوہات میں بچوں کے ساتھ بدسلوکی، گھریلو تشدد، جینیاتی عوامل، بڑھتی ہوئی معاشی عدم مساوات، موسمیاتی تبدیلی، وبائیں اور تنازعات شامل ہیں جبکہ ڈیٹا کی دستیابی اور معیار نے بھی رجحانات کو متاثر کیا۔


