واشنگٹن (شِنہوا) یونیورسٹی آف مشی گن کے “سروے آف کنزیومرز” کے مطابق مئی میں امریکی صارفین کے اعتماد میں مسلسل تیسرے ماہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز میں رسد کی رکاوٹیں ہیں جو پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہیں۔
سروے کے مطابق صارفین کا اعتماد اب جون 2022 میں ریکارڈ کی گئی سابقہ تاریخی کم ترین سطح سے بھی کچھ نیچے آ گیا ہے۔ زندگی کے اخراجات اب بھی بنیادی تشویش ہیں اور 57 فیصد صارفین نے بتایا کہ مہنگی قیمتیں ان کی ذاتی مالی حالت کو متاثر کر رہی ہیں، جو اپریل میں 50 فیصد تھیں۔
کم آمدنی والے صارفین اور وہ افراد جن کے پاس یونیورسٹی کی ڈگری نہیں ہے، ان کے اعتماد میں زیادہ نمایاں کمی دیکھی گئی ہے کیونکہ وہ پٹرول اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اضافے سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
اس ماہ کے دوران تقریباً 40 فیصد صارفین نے بغیر پوچھے پٹرول کی قیمتوں پر تبصرے کئے، جو گزشتہ ماہ 33 فیصد تھے، جو ظاہر کرتا ہے کہ ایندھن کی قیمتیں ان کے معاشی احساسات میں کتنی اہم ہیں۔
پیٹر سن انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل اکنامکس کے نان ریزیڈنٹ سینئر فیلو گیری ہف باؤر نے کہا کہ “جب تک ایران کی جنگ جاری رہے گی اور تیل 100 ڈالر فی بیرل کے قریب رہے گا، ساتھ ہی کھاد اور پلاسٹک جیسی دیگر اشیاء میں بھی قلت ہوگی، میں توقع کرتا ہوں کہ صارفین کا اعتماد مزید کم ہوگا۔”
سنٹر فار اکنامک اینڈ پالیسی ریسرچ کے شریک بانی ڈین بیکر نے بھی اسی رائے کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ “اگر جنگ جلد ختم ہو جائے اور آبنائے دوبارہ کھل جائے تو اعتماد میں بہتری آ سکتی ہے، ورنہ یہ مزید خراب ہوتا رہے گا۔”
سروے کے مطابق ایک سال بعد مہنگائی کی توقعات اپریل کے 4.7 فیصد سے بڑھ کر مئی میں 4.8 فیصد ہو گئی ہیں۔ صارفین کو خدشہ ہے کہ مہنگائی صرف ایندھن تک محدود نہیں رہے گی بلکہ دیگر شعبوں میں بھی پھیل جائے گی۔
موجودہ شرح فروری 2026 میں ایران تنازع کے آغاز سے پہلے ریکارڈ کئے گئے 3.4 فیصد سے کافی زیادہ ہے اور 2024 کی تمام ریڈنگز سے بھی بلند ہے۔
طویل مدتی مہنگائی کی توقعات اپریل کے 3.5 فیصد سے بڑھ کر مئی میں 3.9 فیصد تک پہنچ گئی ہیں، جو 2024 میں 2.8 فیصد سے 3.2 فیصد کے درمیان تھی۔


