پولینڈ کے شہر وارسا میں واقع ایک ممتاز طبی ادارے کے آپریشن تھیٹر میں چینی ساختہ سرجیکل روبوٹ یورولوجسٹ پاویل ویش کے کنٹرول میں خاموشی اور انتہائی درستگی کے ساتھ حرکت کر رہا ہے۔
چین کی سرجیکل روبوٹکس کمپنی ’ایج میڈیکل‘ کے تیارکردہ اس نظام کو سال 2025 میں پولینڈ کی وزارت داخلہ و انتظامیہ کے نیشنل میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں متعارف کرایا گیا تھا۔ اس کے بعد سے یہ ہسپتال میں سرجری کے روزمرہ معاملات کا حصہ بن چکا ہے۔
پولینڈ کی میڈیکل ڈیوائس ڈسٹری بیوٹر کمپنی ’’میڈن انمیڈ‘‘ کی سینئر کلینیکل روبوٹکس منیجر ماجدالینا آگسٹن نے شِنہوا کو بتایا کہ اس روبوٹ کے ذریعے تھری ڈی ویژن کو 10 گنا بڑا کر کے دکھایا جاتا ہے جس سے سرجن کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ براہِ راست مریض کے جسم کے اندر موجود ہوں ۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): ماجدالینا آگسٹن، سینئر کلینیکل روبوٹ منیجر، میڈن انمیڈ کمپنی، ڈسٹری بیوٹر، ایج میڈیکل، پولینڈ
"روبوٹ کے ساتھ آپریشن کرتے وقت مریض، سرجن اور ہسپتال تینوں کے لئے بہت سے فوائد ہیں۔ جہاں تک مریضوں کا تعلق ہے تو لچکدار جراحی آلات کی وجہ سے انہیں بہتر سرجری نتائج ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ مریض کےخون کا ضیاع بھی کم ہوتا ہے، اس طرح مریضوں کو مجموعی طور پر زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ سرجن کے لئے بھی یہ نظام فائدہ مند ہے کیونکہ آپریشن کے بعد اسے زیادہ تھکن محسوس نہیں ہوتی، اس کی کارکردگی میں بہتری آتی ہے اور وہ مزید سرجریاں بھی کر سکتا ہے۔ روبوٹ کے ذریعے آپریشن کیا جائے تو آپ کو مریض کے جسم کا اندرونی منظر 10 گنا بڑا دکھائی دیتا ہے۔ خاص طور پر پیٹ کے اندر موجود اعضا زیادہ واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تھری ڈی ویژن سرجن کو یہ احساس دیتا ہے کہ وہ براہِ راست مریض کے جسم کے اندر موجود ہے۔”
اگرچہ یہ روبوٹ معمول کے مطابق آپریشن تھیٹر میں استعمال ہو رہا ہے تاہم اس نے ٹیم کے لئےدور سے سرجری انجام دینا بھی ممکن بنا دیا ہے۔
صرف ایک ماہ قبل ڈاکٹر ویش نے چین کے جنوب مغربی شہر چھنگ دو میں واقع ریموٹ سرجری کنٹرول سینٹر سے تقریباً 7 ہزار کلومیٹر دور بیٹھ کر وارسا میں موجود روبوٹ کو کنٹرول کرتے ہوئے آپریشن کیا۔
سیچھوان یونیورسٹی کے ویسٹ چائنہ ہسپتال کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک عالمی سرجیکل روبوٹکس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر ویش اور ان کی ٹیم نے ریموٹ سرجری سینٹر میں دو سرحد پار آپریشن کئے جن میں ایک دل کا آپریشن تھا اور دوسرا پیشاب کے نظام سے متعلق۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): ڈاکٹر پاویل ویش، یورولوجسٹ، نیشنل میڈیکل انسٹی ٹیوٹ، وزارت داخلہ و انتظامیہ، پولینڈ
"اسی وجہ سے ہمیں معلوم تھا کہ تیاری کیسے کرنی ہے۔ مثال کے طور پر مجھے صرف ایسا ایک کمرہ، انٹرنیٹ کنیکشن اور یہ کنٹرول کنسول درکار ہوتا ہے اور پھر میں باآسانی مختلف ممالک اور ہسپتالوں کے درمیان کام کر سکتا ہوں۔ یہ نہایت محفوظ طریقہ ہے اور اگر کنیکشن مستحکم ہو اور تاخیر کا امکان بھی کم ہو تو بہت ہموار طریقے سے سرجری کی جا سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم نے چین اور یورپ کے درمیان طویل فاصلے کی سرجری کا فیصلہ کیا۔”
چین کی ریموٹ روبوٹک سرجری ٹیکنالوجی کی مستحکم کارکردگی نے پولش ٹیم کے اُس پر اعتماد کو مزید مضبوط کیا ہے۔ ڈاکٹر ویش کے مطابق یہ ٹیکنالوجی چین میں پہلے ہی کلینیکل پریکٹس میں اچھی طرح استعمال ہوئی ہے جبکہ یورپ میں اس کا استعمال ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔
میڈن انمیڈ کے بزنس ڈویلپمنٹ ڈائریکٹر پاویل روسینک کے مطابق یہ ادارہ ان کم از کم 10 ہسپتالوں میں شامل ہے جنہوں نے حالیہ برسوں میں پولینڈ میں چین کے سرجیکل روبوٹس متعارف کرائے ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): پاویل روسینک، بزنس ڈویلپمنٹ ڈائریکٹر، میڈن انمیڈ کمپنی، ڈسٹری بیوٹر، ایج میڈیکل، پولینڈ
"ہم نے چینی سپلائی کا انتخاب اس لئے کیا کیونکہ ان میں لچک اور ترقی کی رفتار زیادہ تیز ہے۔ گزشتہ برسوں میں چینی مصنوعات کے معیار میں بہت زیادہ بہتری آئی ہے اور اب یہ عالمی سطح کے بڑے برانڈز کا مقابلہ کر سکتی ہیں۔ اس لئے ہمیں اس ٹیکنالوجی سے کوئی خوف نہیں کیونکہ ’ایج‘کے ساتھ تعاون شروع کرنے سے پہلے ہی ہمیں معلوم تھا کہ اس ٹیکنالوجی کا معیار عالمی سطح پر بہترین اور اعلیٰ ترین ہے۔
’ایج‘کے ساتھ تعاون کا فیصلہ کرنے سے قبل ہم نے دیگر یورپی و امریکی تیار کنندگان کے ساتھ شراکت داری کے امکانات کا بھی جائزہ لیا تھا لیکن تمام تر تجزیوں، معاشی پہلوؤں اور تکنیکی تعاون کو سامنے رکھتے ہوئے آخرکار ہم نے یہی فیصلہ کیا کہ چینی روبوٹکس کمپنی ’ایج‘ کے ساتھ مل کر کام کیا جائے ۔”
انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر پیوتر سووالسکی نے بھی اس ٹیکنالوجی کو انتہائی مؤثر قرار دیا ہے۔
ادارے کے ڈائریکٹر پیوتر سووالسکی نے شِنہوا کو بتایا کہ یہ ایک شاندار تجربہ تھا اور ہمیں پورے عمل کے دوران مضبوط تکنیکی معاونت حاصل رہی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ادارہ رواں برس کے آخر تک پولینڈ اور یورپ بھر کے ڈاکٹروں کے لئے روبوٹک سرجری کے حوالے سے اپنا ایک تربیتی مرکز قائم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 4 (انگریزی): پیوتر سووالسکی ، ڈائریکٹر، نیشنل میڈیکل انسٹی ٹیوٹ، وزارت داخلہ و انتظامیہ، پولینڈ
"میرا خیال ہے کہ بطور سرجن میرے لئے سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ روبوٹس ایک جیسے نہیں ہیں۔ ان میں ایسے خاص خدوخال موجود ہیں جن کا تعلق سرجری کے مختلف انداز اور ایسے پہلوؤں سے ہے جو بہت دلچسپ ہیں۔ اس سے آپ کو نظام ایڈجسٹ کرنے کی بھی سہولت ملتی ہے۔ مثال کے طور پر میں روبوٹک شعبے کے مستقبل کو اسی طرح دیکھتا ہوں۔ خاص طور پر ہمارے جیسے مراکز میں جہاں اس وقت ہمارے پاس پہلے ہی چار روبوٹس موجود ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ مستقبل میں ان کی تعداد مزید بڑھ جائے گی کیونکہ دنیا خاص طور پر طب یا سرجری اسی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ ہم چند ہفتوں بعد دوبارہ چین میں شین زین جائیں گے لیکن اس بار سرجری کے لیے نہیں بلکہ تربیت اور طبی مشق کے لئے۔ ہمارا اگلا قدم یہ ہو گا کہ ہم اپنے مرکز میں طبی طور پر سنگل پورٹ ٹیکنالوجی بھی متعارف کرائیں۔ میرے خیال میں یہ ایک اور پیش رفت ہے جو بہت دلچسپ بھی ہے۔”
وارسا سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
چین کے سرجیکل روبوٹس پولینڈ میں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں
وارسا کے آپریشن تھیٹر میں جدید چینی روبوٹ کی نمائش کی گئی
روبوٹ انتہائی خاموشی اور درستگی سے سرجری انجام دے رہا تھا
نیشنل میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں چینی روبوٹ کا کامیاب استعمال
تھری ڈی ویژن سے سرجن مریض کے اندرونی اعضاء کو دیکھ سکتا ہے
ریموٹ سرجری کے ذریعے ہزاروں کلومیٹر دور سے بھی آپریشن ممکن ہے
چھنگ دو سے وارسا تک دور دراز سرجری کا کامیاب تجربہ
یورپی ہسپتالوں میں چین کے سرجیکل روبوٹس کا استعمال بڑھ رہا ہے
ماہرین کے مطابق چینی ٹیکنالوجی عالمی معیار تک پہنچ چکی ہے
پولینڈ میں روبوٹک سرجری کے لیے نیا تربیتی مرکز قائم کیا جائے گا


