واشنگٹن (شِنہوا) پینٹاگان آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ میں مزید ہزاروں فوجی بھیج رہا ہے جبکہ واشنگٹن اور تہران تنازع ختم کرنے اور دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس امکان پر غور کر رہی ہے کہ اگر جنگ بندی برقرار نہ رہی تو مزید فضائی حملے یا زمینی کارروائیاں کی جا سکتی ہیں۔
امریکی بحریہ کے ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا تھا کہ خطے میں منتقل ہونے والی فورسز میں تقریباً 6 ہزار فوجی شامل ہیں جو نییمٹز کلاس طیارہ بردار بحری بیڑے یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش اور اس کے ساتھ موجود جنگی بحری جہازوں پر سوار ہیں۔ یہ جہاز امریکی ریاست ورجینیا کے نیول سٹیشن نورفوک سے مارچ کے آخر میں مشرق وسطیٰ کے لئے روانہ ہوئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق توقع ہے کہ بحر و بر میں کارروائی کرنے والے باكسر ریڈی گروپ اور اس کے ساتھ موجود میرین کورز کی 11 ویں مہماتی یونٹ کے مزید 4200 فوجی مہینے کے آخر تک خطے کے قریب پہنچ جائیں گے۔
اس وقت تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی ایران کے خلاف 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ میں شامل ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں فاکس بزنس کو بتایا کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم ہونے کے بہت قریب ہے۔


