اسلام آباد (شِنہوا) امریکہ اور ایران کے جاری تنازع کے تناظر میں سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آگئی ہے کیوں کہ مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے امکانات کے پیش نظر پاکستان نے ثالثی کی اپنی کوششیں مزید بڑھا دی ہیں۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات ممکن بنانے کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح کا پاکستانی وفد اسلام آباد سے تہران پہنچا۔ سکیورٹی اور سفارتی اداروں کے سینئر حکام پر مشتمل یہ وفد فریقین کے درمیان آئندہ مرحلے کی بات چیت سے متعلق اہم پیغامات لے کر گیا ہے۔
یہ دورہ اسلام آباد میں ہونے والے پہلے براہ راست مذاکرات کے بعد کیا گیا ہے جو کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوئے تھے تاہم سفارتی رابطے برقرار رہے۔ ایرانی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ رابطے پاکستان کے ذریعے جاری ہیں۔
یہ سفارتی کوشش پاکستان کی قیادت کے وسیع علاقائی رابطوں کے ساتھ بھی جاری ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کے سرکاری دورے پر جدہ پہنچ گئے ہیں۔ اس ہفتے کے آخر میں وہ قطر اور ترکیہ کا بھی دورہ کریں گے جہاں بات چیت میں دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ خطے کے امن و سلامتی پر بھی توجہ دیئے جانے کا امکان ہے۔
ان کوششوں کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان اہم اختلافات بدستور حل طلب ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ تنازع اپنے اختتام کے "بہت قریب” ہے جبکہ انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا ایک نیا دور جلد شروع ہوسکتا ہے جو ممکنہ طور پر پاکستان میں ہوگا۔
دوسری جانب ایران نے محتاط موقف اختیار کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے موجودہ جنگ بندی میں توسیع سے متعلق کسی معاہدے کی تردید کی ہے۔ انہوں نے اپنے جوہری پروگرام کے نکات پر بات چیت کے لئے آمادگی ظاہر کی تاہم پرامن جوہری توانائی کے حق کو دہرایا اور کسی بھی وسیع تر سمجھوتے کے لئے پابندیوں میں نرمی کو ضروری قرار دیا۔

اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لئے قائم پریس سنٹر کا بیرونی منظر-(شِنہوا)
اگرچہ سفارتی رابطے جاری ہیں لیکن اگلے دور کے مذاکرات کے لئے ابھی تک کوئی وقت مقرر نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب زمینی صورتحال میں کشیدگی بدستور جاری ہے جو خطے کے استحکام کے لئے خطرات پیدا کر رہی ہے۔ امریکہ نے ایران کی سمندری تجارت کو نشانہ بناتے ہوئے بحری ناکہ بندی عائد کر دی ہے اور امریکی فوجی حکام کا دعویٰ ہے کہ سمندر کے راستے ایران سے منسلک معاشی سرگرمیاں مختصر وقت میں موثر طور پر روک دی گئی ہیں۔ اس اقدام سے اہم تزویراتی آبی گزرگاہوں میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
اس کے جواب میں ایرانی فوجی حکام نے ممکنہ جوابی اقدامات سے خبردار کیا ہے۔ ایران کے مرکزی فوجی کمان خاتم الانبیاء کے سنٹرل ہیڈکوارٹرز کے سربراہ علی عبداللہی نے کہا کہ اگر اس کی سمندری تجارت پر پابندیاں جاری رہیں تو ایران اہم بحری راستوں، جن میں آبنائے ہرمز، خلیج، بحیرہ عمان اور بحیرہ احمر شامل ہیں، تجارتی سرگرمیاں روک سکتا ہے۔
اگرچہ سفارتی رابطے جاری ہیں لیکن ابھی تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا، اس لئے علاقائی اور عالمی کوششوں کے ساتھ مل کر پاکستان کی ثالثی کی کوششیں اس بات میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں کہ موجودہ جنگ بندی آگے چل کر ایک بڑے اور مستقل معاہدے میں تبدیل ہو۔


