امریکی سیاحوں کا ایک گروپ حال ہی میں چین کے جنوب مغربی صوبہ سیچھوان میں واقع قدیم "شوداؤ” روڈ سسٹم کے ایک حصے کی تلاش میں کامیاب ہو گیا ہے۔ یہ روڈ سسٹم ہزاروں سال سے چٹانوں، دریاؤں اور جنگلات پر مشتمل ایک ہزار کلومیٹر سے زائد علاقے میں پھیلا ہوا ہے۔
چین امریکہ تبادلہ پروگرام کے تحت کئے جانے والے اس دورے میں سیاحوں کو لکڑی کے تختوں سے بنے راستوں، قلعہ بندیوں، پتھروں پر بنے نقش و نگار، قدیم قصبوں اور قدرتی ماحولیاتی نظام کا قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔ روڈ سسٹم کا یہ حصہ قدیم زمانے میں گوان ژونگ کے میدان کو سیچھوان کی وادی سے ملاتا تھا۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): سینڈرا ڈوروتھی کارپینٹر، سابق وائس پرنسپل، ووہان یانگسی انٹرنیشنل اسکول
"یہ مجھے اس ملک اور یہاں کے اُن لوگوں سے جوڑتا ہے جنہوں نے یہ راہداری تعمیر کی تھی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم فطرت کے ماحول میں مکمل طور پر ڈوب گئے ہوں۔ جب ہم تاریخ اور ان ترقیاتی مراحل کو سمجھتے ہیں جنہوں نے چین کو وجود دیا تو میرا خیال ہے کہ ہم بہتر انداز میں جان سکتے ہیں کہ چین اس وقت کہاں کھڑا ہے۔”
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): جیمز ویور، سابق آزاد مشیر، ورلڈ بینک
"درحقیقت یہاں تاریخ اور فطرت کے درمیان خاص ہم آہنگی ہے۔ میرے خیال میں یہاں آنے والے سیاح اور مہمان اس بات کو بخوبی محسوس کر سکتے ہیں کہ یہ ثقافت کس طرح ترقی کرتے ہوئے جدید چین میں ڈھل گئی ہے۔”
ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): چیو ٹنگ ٹنگ، سینئر مترجم
"مجھے یقین ہے کہ چین اور امریکہ کے درمیان نچلی سطح پر ثقافتی تبادلہ اس جذبے کے اشتراک سے آگے بڑھتا ہے۔ اس سے ہمیں اپنی ثقافتی روح کو ان کے سامنے پیش کرنے کا موقع ملتا ہے اور وہ بھی ہمیں اپنا تعارف کراتے ہیں۔”
ساؤنڈ بائٹ 4 (انگریزی): ایما روز ہینسن، لیکچرر، کالج آف انٹرنیشنل اسٹڈیز، ساؤتھ ویسٹ یونیورسٹی
"مجھے بہت زیادہ کامیابی کا احساس ہو رہا ہے۔ مجھے اس پیدل سفر سے بھرپور لطف اٹھانے کا موقع ملا۔ یہ اتنا مشکل نہیں تھا جتنا میں نے سوچا تھا۔ میں اپنے تمام دوستوں اور ہر اُس شخص کو مشورہ دیتی ہوں جو ابھی چین نہیں آئے کہ وہ سیچھوان آئیں، اس سرسبز راستے پر چلیں اور خود اس کا تجربہ کریں۔”
ساؤنڈ بائٹ 5 (انگریزی): امول رویندرا اپادہوے، ایسوسی ایٹ ریسرچ فیلو، ساؤتھ ویسٹرن انسٹی ٹیوٹ فار آسٹرونومی ریسرچ، یوننان یونیورسٹی
"مجھے یہاں سفر کرنا بہت پسند ہے۔ یہاں کے لوگ بہت خوش اخلاق ہیں۔ وہ میرے ساتھ اپنی ثقافت کے اشتراک کے حوالے سےبے حد پُرجوش ہیں۔ وہ چھوٹی چھوٹی تفصیلات بھی مجھے بتاتےہیں۔ اس لئے مجھے ان کے بارے میں جاننا بہت دلچسپ محسوس ہوتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ مزید لوگ یہاں آئیں گے۔”
ساؤنڈ بائٹ 6 (انگریزی): ایریکا ڈینیئل میک انٹائر، لیکچرر، کالج آف انٹرنیشنل اسٹڈیز، ساؤتھ ویسٹ یونیورسٹی
"یہ ماضی میں جھانکنے اور یہ دیکھنے کا موقع ہے کہ بہت پہلے زندگی کیسی تھی۔ مجھے یہ بات اچھی لگی ہے کہ اس علاقے کو کیسے محفوظ رکھا گیا ہے۔ میرے خیال میں یہ ماضی اور حال کے لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ یہ باہمی رابطوں اور مل کر کام کرنے کا ایک اچھا موقع ہے۔”
چھنگ دو، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
امریکی سیاحوں کاچین کے قدیم “شوداؤ” روڈ سسٹم کا مطالعاتی دورہ
سیاحوں نےسیچھوان میں واقع تاریخی روڈ نیٹ ورک کا تفصیلی مشاہدہ کیا
“شوداؤ” نظام چٹانوں، دریاؤں اور جنگلات پر مشتمل ہے
یہ قدیم راستہ ایک ہزار کلومیٹر سے زائد رقبے پر پھیلا ہوا ہے
یہ دورہ چین امریکہ تبادلہ پروگرام کے تحت کیا گیا
سیاحوں نے قدیم راستے، قلعہ بندیاں اور نقش و نگار قریب سے دیکھے
تاریخ اور فطرت کے امتزاج نے سیاحوں کو متاثر کیا
شرکاء نے ثقافتی تبادلے اور باہمی سمجھ بوجھ پر زور دیا
قدیم ثقافت کو سمجھ کر جدید چین کو بہتر جانا جا سکتا ہے
ماضی اور حال کو جوڑنے والا یہ سفر ایک یادگار تجربہ ثابت ہوا


