اسلام آباد (شِنہوا) امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات میں امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا کیونکہ بھرپور کوششوں کے باوجود بات چیت کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئی۔
وینس نے کہا کہ امریکی فریق نے تقریباً پورا دن جاری رہنے والی بات چیت کے بعد اپنی "حتمی اور بہترین پیشکش” پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات "نیک نیتی” سے کئے گئے تاہم اس تجویز کو ابھی تک قبولیت حاصل نہیں ہو سکی۔
وینس نے کہا کہ ایران کی جوہری افزودگی کی تنصیبات "تباہ” ہو چکی ہیں جس کے بعد مذاکرات کا محور اب تہران سے طویل مدتی یقین دہانی حاصل کرنے پر منتقل ہو گیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔
امریکی نائب صدر کے مطابق اب بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا ایران نہ صرف فوری طور پر بلکہ آنے والے برسوں میں بھی جوہری صلاحیت کے حصول سے باز رہنے کے عزم کا عملی مظاہرہ کرنے کے لئے تیار ہے یا نہیں۔
وینس نے کہا کہ "سادہ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں ایک واضح یقین دہانی درکار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے اور وہ ایسے ذرائع حاصل نہیں کریں گے جو انہیں جلد جوہری ہتھیار بنانے کے قابل بنا دیں۔ یہی امریکی صدر کا بنیادی ہدف ہے اور ہم مذاکرات کے ذریعے یہی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے بھی اتوار کے روز رپورٹ کیا کہ اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے کیونکہ امریکہ کے "حد سے زیادہ مطالبات” نے مشترکہ فریم ورک اور معاہدے میں رکاوٹ ڈالی۔
اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایکس پر کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران امریکہ کے ساتھ مختلف اہم امور پر بات چیت ہوئی، جن میں آبنائے ہرمز، جوہری مسئلہ، جنگی ہرجانے، پابندیوں کا خاتمہ اور ایران اور خطے کے خلاف جنگ کے مکمل خاتمے جیسے موضوعات شامل تھے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس سفارتی عمل کی کامیابی مخالف فریق کی سنجیدگی اور نیک نیتی، حد سے زیادہ اور غیر قانونی مطالبات سے گریز اور ایران کے جائز حقوق و مفادات کو تسلیم کرنے پر منحصر ہے۔
یہ اعلیٰ سطح کے مذاکرات 1979 کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان سب سے اہم ملاقات بتائے جا رہے ہیں۔
وینس نے امریکہ اور ایران کے درمیان فاصلے کم کرنے اور معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں میں پاکستان کے کردار پر شکریہ بھی ادا کیا۔ مذاکرات سے قبل امریکی اور ایرانی وفود نے پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف سے الگ الگ ملاقات کی جنہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات خطے میں پائیدار امن کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوں گے۔


