روم (شِنہوا) اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کے چیف اکانومسٹ میکسیمو توریرو نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع عالمی غذائی تحفظ کے لئے خطرات بڑھا سکتا ہے، خاص طور پر ان ممالک کے لئے جو درآمدی خوراک، کھاد اور ایندھن پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
شِنہوا کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو میں تو ریرو نے کہا کہ یہ بحران ان ممالک کی کمزوریوں کو بے نقاب کر رہا ہے جن کی ملکی پیداوار محدود ہے اور جو بیرونی سپلائی کے راستوں پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اصل تقسیم کی لکیر محض امیر اور غریب ممالک کے درمیان نہیں ہے بلکہ یہ ان ممالک کے درمیان ہے جن کے پاس اپنے وسائل کے ذخائر موجود ہیں اور وہ جن کے پاس یہ نہیں ہیں۔
ایف اے او نے ایک حالیہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمزجو تیل، گیس اور کھاد کی عالمی تجارت کا ایک اہم راستہ ہے، کے گرد پیدا ہونے والی رکاوٹیں زرعی و غذائی نظام کی لاگت میں اضافہ کر سکتی ہیں اور کمزور معیشتوں پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہیں۔
توریرو نے کہا کہ خلیجی ممالک اپنی دولت کے باوجود اس صورتحال سے شدید متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ غذائی درآمدات اور سمندری تجارت پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مالی وسائل قلیل مدتی ریلیف تو فراہم کر سکتے ہیں لیکن وہ منقطع سپلائی لائنوں کا متبادل نہیں بن سکتے۔


