ہومانٹرنیشنلجاپان میں ہتھیاروں کی برآمد کے قوانین میں نرمی کے خلاف اپوزیشن...

جاپان میں ہتھیاروں کی برآمد کے قوانین میں نرمی کے خلاف اپوزیشن اور عوام کا احتجاج

ٹوکیو (شِنہوا) جاپان کی متعدد اپوزیشن جماعتوں کی اہم شخصیات نے ٹوکیو کے مصروف ترین اکیبوکورو سٹیشن کے باہر ہزاروں شہریوں کے ساتھ مل کر حکومت کے اس خطرناک اقدام کے خلاف احتجاج کیا، جس کا مقصد ہتھیاروں کی برآمدات پر پابندیوں میں نرمی اور بڑے پیمانے پر فوجی توسیع کو آگے بڑھانا ہے، مظاہرین نے ملک کے مستقبل کے حوالے سے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

منتظمین کے مطابق اس احتجاج میں 6 ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر "فوجی طاقت امن نہیں لا سکتی” اور "تاکائیچی استعفیٰ دو” جیسے مطالبات درج تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ "جنگ کی مخالفت کریں” اور "امن کا دفاع کریں” جیسے نعرے بھی لگائے گئے جو حکومت کی سکیورٹی پالیسی میں تبدیلی کے خلاف عوامی غم و غصے کی عکاسی کر رہے تھے۔

جاپانی میڈیا نے اس سے قبل رپورٹ کیا ہے کہ تاکائیچی حکومت اسی ماہ کے دوران "دفاعی سازوسامان اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے تین اصولوں” کے نفاذ کی رہنما خطوط پر نظرثانی کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے تاکہ بیرون ملک اسلحے کی برآمدات پر عائد پابندیوں کو ختم کیا جا سکے۔

احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن سیاستدانوں نے کہا کہ جاپان کی جانب سے اسلحہ برآمد کرنے سے بین الاقوامی تنازعات کو ہوا مل سکتی ہے اور یہ ملک کے آئین میں درج امن پسند اصولوں کے خلاف ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ حکومت کی جانب سے پیش کی جانے والی پالیسیوں کا ایک سلسلہ، جن میں مسلسل فوجی طاقت میں اضافہ، مجوزہ انسداد جاسوسی قانون اور قومی انٹیلی جنس ایجنسی کے قیام کے منصوبے شامل ہیں، جاپان کو ایک خطرناک راستے پر ڈال سکتے ہیں جو بالآخر جنگ کی تیاری کی جانب لے جا سکتا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں