ہومتازہ ترینچین آسیان پلس تھری کے پیداواری نیٹ ورک کا بنیادی مرکز...

چین آسیان پلس تھری کے پیداواری نیٹ ورک کا بنیادی مرکز بن گیا

سنگاپور (شِنہوا) سنگاپور میں قائم آسیان پلس تھری میکرو اکنامک ریسرچ آفس (ایمرو) نے کہا ہے کہ چین آسیان پلس تھری خطے کے پیداواری نیٹ ورک کا ایک بنیادی مرکز بن چکا ہے۔ آسیان پلس تھری میں آسیان کے رکن ممالک کے ساتھ چین، جاپان اور جنوبی کوریا شامل ہیں۔

ادارے نے 2026 کے لئے اپنی آسیان پلس تھری علاقائی اقتصادی جائزہ رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ایک بنیادی ساختی تبدیلی نے خطے کو مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ترسیل کے لحاظ سے خطے کا پیداواری نظام پہلے جاپان کے گرد گھومتا تھا لیکن اب یہ زیادہ مضبوط اور آپس میں جڑا ہوا نیٹ ورک بن گیا ہے جس کا مرکز چین ہے۔ اس کی وجہ چین کی بڑھتی ہوئی فیکٹری صلاحیت، بہتر ترسیلی نظام اور درمیانی اشیاء کی تجارت میں اس کا مرکزی کردار ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ یہ ترسیلی روابط یکطرفہ انحصار نہیں بلکہ باہمی انحصار کے عکاس ہیں۔

طلب کے لحاظ سے آسیان پلس تھری اب دنیا میں حتمی طلب کا بڑا مرکز بن گیا ہے جو مجموعی طور پر امریکہ سے بھی بڑا ہے اور خطے کے اندرونی ممالک کی طلب اب بیس سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ اہم ہے۔

چین کے مشرقی صوبے جیانگ سو کے شہر نان جنگ میں چھانگ آن مزدا کی ورکشاپ میں عملے کے ارکان کام میں مصروف ہیں-(شِنہوا)

رپورٹ کے مطابق یہ تعلق دو طرفہ ہے، آسیان پلس تھری میں چین طلب کا بڑا مرکز ہے جبکہ دیگر معیشتیں چینی برآمدات کے لئے حتمی طلب کے اہم ذرائع ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسی دوران براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) نے بھی ان تعلقات کو مضبوط بنایا کیونکہ خطے کے اندر بڑھتی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری نے تجارت اور پیداوار کے روابط کو مزید سہارا دیا۔

پیر کے روز جاری ہونے والی بریفنگ کے دوران ایمرو کے چیف اکنامسٹ حہ ڈونگ نے صحافیوں کو بتایا کہ ترسیلی نظام کو مضبوط اور پائیدار بنانے کے لئے ضروری ہے کہ شامل ممالک مقامی سطح پر تیار اشیاء میں اضافہ کریں تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری سے ملک کو زیادہ فائدہ ہو۔

حہ ڈونگ نے کہا کہ آسیان کی کمپنیاں اپنی مقامی صلاحیت کو بہتر بنا کر فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ مقامی سطح پر تیار اشیاء بڑھانے سے علاقائی کمپنیوں کو زیادہ مواقع ملیں گے اور ترسیلی نظام زیادہ مضبوط ہو گا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں