ہومتازہ ترینسترہ صنوبر کے درخت: چین کے ایک گاؤں کی نسلوں پر محیط...

سترہ صنوبر کے درخت: چین کے ایک گاؤں کی نسلوں پر محیط یادگار روایت

اسٹینڈ اپ 1 (انگریزی): پینگ جِنگ، نمائندہ شِنہوا

"چین میں چنگ منگ تہوار، جسے قبروں کی صفائی کا دن بھی کہا جاتا ہے، ایک روایتی موقع ہے جب لوگ اپنے آباؤ اجداد کو یاد کرتے ہیں اور مرحومین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔

اس سال یہ تہوار اتوار کو منایا جا رہا ہے اور اسی سلسلے میں میں جیانگ شی صوبے کے ایک چھوٹے سے گاؤں ہواوو آئی ہوں۔”

اسٹینڈ اپ 2 (انگریزی): پینگ جِنگ، نمائندہ شِنہوا

"گاؤں کے پیچھے اس پہاڑی پر واقع جنگل میں سترہ صنوبر کے درخت موجود ہیں اور ہر درخت کے ساتھ ایک پتھر کی تختی نصب ہے جس پر اسے لگانے والے کا نام درج ہے۔

ہر سال چنگ منگ تہوار پر گاؤں کے لوگ یہاں آ کر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ یہ روایت گزشتہ 80 برس سے جاری ہے۔”

ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): ہوا شوئی لِین، رہائشی، ہواوو گاؤں

"یہ درخت میرے دادا نے لگایا تھا، اسے دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے میں اپنے دادا کو دیکھ رہا ہوں۔ اسی لیے ہم ہر سال چنگ منگ تہوار پر یہاں آتے ہیں۔”

یہ صنوبر کے درخت ان سترہ نوجوانوں نے لگائے تھے جو 1930ء کی دہائی کے اوائل میں چینی انقلاب کے دوران ریڈ آرمی میں شامل ہوئے تھے۔

یہ تمام نوجوان ہواوو گاؤں کے رہائشی تھے جہاں اس وقت صرف 43 گھرانے آباد تھے۔

ان سپاہیوں کو امید تھی کہ چاہے کچھ بھی ہو، یہ درخت ہمیشہ ان کے پیاروں کی یاد کو زندہ رکھیں گے۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): ہوا آئی لِین، رہائشی، ہواوو گاؤں

"اس وقت صرف ریڈ آرمی ہی غریب لوگوں کے لیے لڑ سکتی تھی اور ملک کو محفوظ بنا سکتی تھی، اسی لیے سب نے اس میں شمولیت اختیار کر لی۔”

ان میں سے کوئی بھی واپس نہ آ سکا اور تمام 17 نوجوان انقلاب میں اپنی جانیں قربان کر گئے۔ ان میں سب سے کم عمر نوجوان صرف 13 سال کا تھا۔

تاہم یہ صنوبر کے درخت آج بھی گاؤں والوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): ہوا شینگ، رہائشی، ہواوو گاؤں

"یہ درخت میرے پردادا کے بھائی ہوا تاؤشینگ نے لگایا تھا۔ وہ صرف 15 سال کے تھے جب گاؤں چھوڑ کر گئے۔ جاتے وقت وہ کئی بار مڑ کر دیکھتے رہے اور کہتے رہے کہ ’میں جنگ کے بعد واپس آؤں گا‘، مگر وہ کبھی واپس نا آ سکے۔

ہر سال چنگ منگ تہوار پر لوگ خود ہی یہاں آ جاتے ہیں، کسی کو یاد دلانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔”

49 سالہ ہوا شینگ اور دیگر دیہاتیوں کے لیے ان سپاہیوں کے نام اور کہانیاں دلوں میں گہرائی سے نقش ہو چکی ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 4 (چینی): ہوا شینگ، رہائشی، ہواوو گاؤں

"ہمارے لیے وہ خاندان کی طرح ہیں، ایسے لوگ جنہیں ہم کبھی نہیں بھول سکتے۔ ہواوو میں یہ روایت ہے کہ جب بھی کسی کی شادی ہو یا بچہ پیدا ہو تو سب سے پہلے یہاں آ کر شہداء کو بتایا جاتا ہے۔ اب جب زندگی بہتر ہو گئی ہے تو ہمیں اپنے بزرگوں کو ضرور یاد کرنا چاہیے۔”

90 برس پہلے ہواوو ایک غریب گاؤں تھا جہاں کچے مکانات اور مٹی کی سڑکیں تھیں۔

آج یہ گاؤں ترقی کر چکا ہے جہاں پکی سڑکیں، نئے مکانات اور بڑھتی ہوئی سیاحت موجود ہے۔

نسل در نسل، گاؤں کے لوگوں نے ان درختوں کی حفاظت اور اس یاد کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف طریقے اپنائے ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 5 (چینی): ہوا شینگ، رہائشی، ہواوو گاؤں

"ماضی میں حالات بہت مشکل تھے اور لوگ لکڑیاں کاٹ کر گزارا کرتے تھے لیکن کسی نے بھی ان سترہ درختوں کو کاٹنے کا نہیں سوچا، چاہے حالات کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں۔”

ساؤنڈ بائٹ 6 (چینی): ہوا شِنگ، رہائشی، ہواوو گاؤں

"میں ابھی شین زین سے واپس آیا ہوں۔ ہم ہر سال چنگ منگ تہوار پر لمبا سفر طے کر کے یہاں آتے ہیں تاکہ اپنے بزرگوں کو خراجِ عقیدت پیش کر سکیں۔ اگر وہ نہ ہوتے تو آج ہم یہ زندگی نہ گزار رہے ہوتے۔”

روئی جن، چین سے نمائندہ شِنہوا نیوز ایجنسی کی رپورٹ

——————————————

آن سکرین ٹیکسٹ:

چین کے گاؤں میں 17 درخت، شہداء کی یاد کی زندہ علامت

80 سال سے زیادہ عرصے سے چنگ مِنگ پر اجتماعی خراجِ عقیدت

صنوبر کے درخت ریڈ آرمی میں شامل 17 نوجوانوں کی یاد میں لگائے گئے

43 گھروں کے 17 نوجوان جنگ میں شہید

کم عمر ترین شہید کی عمر محض 13 سال

گاؤں کے باسی درختوں کو اپنے بزرگوں کی طرح یاد کرتے ہیں۔ رہائشی

ہر درخت ایک داستان، ہر نام ایک قربانی کی علامت

شادی یا خوشی کے موقع پر پہلے شہداء کو یاد کرنے کی روایت

مشکل ترین حالات میں بھی کسی نے درختوں کو کاٹنے کا نہیں سوچا۔ رہائشی

نسل در نسل شہداء کی یاد اور قربانی کو زندہ رکھا گیا

ترقی یافتہ گاؤں بھی ماضی کی قربانیوں کو نہیں بھولا

چنگ مِنگ پر دور دراز شہروں سے لوٹ کر خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں