انقرہ کے ایک جدید علاقے میں واقع ایک کلینک میں باریک سوئیاں مریضوں کو توازن، حرکت اور دائمی درد سے راحت دلانے میں مدد کر رہی ہیں۔
ایکیوپنکچر کے نام سے یہ طریقہ علاج روایتی چینی طب (ٹی سی ایم) کا اہم حصہ ہے جو ہزاروں برس کی تاریخ رکھتا ہے۔ترکیہ میں یہ تیزی سے مقبول ہو رہا ہے جسے سائنسی تحقیق، ادارہ جاتی شناخت اور چین کے ساتھ بڑھتے تبادلوں سے مزید تقویت مل رہی ہے۔
ترکیہ ایکیوپنکچر ایسوسی ایشن کے نائب صدر ڈاکٹر مصطفیٰ چفچی نے انقرہ میں اپنے کلینک پر شِنہوا کو بتایا کہ ترکیہ میں ایکوپنکچر کا مستقبل بہت روشن ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (ترک): مصطفیٰ چفچی، نائب صدر، ترکیہ ایکیوپنکچر ایسوسی ایشن
’’خاص طور پر گزشتہ دس برسوں میں وزارت صحت کے تعاون سے روایتی اور معاون طبی طریقہ علاج خاص طور پر ایکیوپنکچر میں بہت زیادہ دلچسپی دیکھی گئی ہے۔‘‘
دو ہزار برس سے زائد عرصہ قبل چین میں شروع ہونے والا ایکیوپنکچر جسم کے مخصوص مقامات پر باریک سوئیاں لگانے پر مشتمل ہے جس کا مقصد روایتی چینی طب کے نظریے کے مطابق توانائی کے بہاؤ کو متوازن کرنا ہے۔
چفچی نے کہا کہ چین کے ساتھ ترکیہ کے بڑھتے تعلقات نے اس شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترک تنظیمیں چینی اداروں کے ساتھ پیشہ ورانہ تعاون برقرار رکھے ہوئے ہیں، مہارت کا تبادلہ کر رہی ہیں اور مشترکہ تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔
چفچی نے کہا کہ ترکیہ نے 2014 میں روایتی اور متبادل طب سے متعلق ایک ضابطہ متعارف کرا کے ایکیوپنکچر کو باضابطہ طور پر اپنایا جس کے ذریعے اس شعبے کے قانونی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کو مضبوط اور منظم بنایا گیا۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (ترک): مصطفیٰ چفچی، نائب صدر، ترکیہ اکیوپنکچر ایسوسی ایشن
’’ایکیوپنکچر کے استعمال کے متعدد شعبے ہیں۔ مریض مختلف دائمی بیماریوں کا علاج کرانے کے لئے آتے ہیں۔ وہ درد اور اس کی مختلف اقسام، پٹھوں اور جوڑوں کے دائمی درد ، بانجھ پن، دمہ اور سانس کی نالیوں کی سوزش جیسے مسائل میں مدد چاہتے ہیں۔
گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ترکیہ میں ایکیوپنکچر سے متعلق سائنسی تحقیق میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ممکن ہے آنے والے عرصے میں جامعات میں ایکیوپنکچر کی باقاعدہ چیئرز اور مرکزی سائنسی شعبے بھی قائم کئے جائیں۔‘‘
ان کے مریضوں میں 46 سالہ نرس اوزنور سیلوی بھی شامل ہیں جنہیں دماغی شریان پھٹنے کا شدید عارضہ لاحق ہوا تھا اور انہوں نے صحت یابی کے لئے ایکیو پنکچر کا سہارا لیا۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (ترک): اوزنور سیلوی، مریضہ
’’جب میں نے علاج شروع کیا تو میں چل بھی نہیں سکتی تھی کیونکہ مجھے توازن برقرار رکھنے میں شدید دشواری تھی۔اسی وجہ سے میں یہاں تین افراد کے سہارے آیا کرتی تھی۔
علاج کے بعد ان مسائل میں نمایاں کمی آئی۔ میں نے ایکیو پنکچر کو اور زیادہ سنجیدگی سے اپنانا شروع کر دیا۔
مجھے معلوم ہوا کہ قدیم چینی طب میں اس کا باقاعدہ مقام ہے اور لوگ اسے ہزاروں برس پہلے سے استعمال کرتے آ رہے ہیں۔ میں اسے سب کو تجویز کرتی ہوں اور امید کرتی ہوں کہ ترکیہ میں یہ مزید عام ہو جائے۔‘‘
چفچی نے بتایا کہ ایکیوپنکچر کو اعصابی بحالیٔ صحت خصوصاً فالج اور دیگر سنگین بیماریوں کے علاج کے لئے وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔
دائمی درد اور جوڑوں اور پٹھوں کی سوزش جیسے امراض میں مبتلا مریضوں میں بھی اس علاج کی طلب بڑھ رہی ہے۔
29 سالہ ایمرے کازلی نے جوڑوں کے درد اور پٹھوں کی کمزوری کے علاج کے لئے اس کلینک سے رجوع کیا۔ یہ دونوں بیماریاں عموماً مسلسل درد اور تھکن کا سبب بنتی ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 4 (ترک): ایمرے کازلی، مریض
’’باقاعدہ علاج کے نتیجے میں مجھے کافی آرام ملا۔ چھ ماہ کے بعد میرا درد مکمل طور پر ختم ہو گیا۔‘‘
انقرہ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


