ہومانٹرنیشنلسپریم لیڈر کی موت کے بعد ایران میں سفارتی حل اب "بہت...

سپریم لیڈر کی موت کے بعد ایران میں سفارتی حل اب "بہت آسان” ہو گیا، ٹرمپ

واشنگٹن (شِنہوا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران میں سفارتی حل اب بھی ممکن ہے۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد یہ اب "بہت آسان” ہو گیا ہے۔

ٹرمپ نے سی بی ایس نیوز کو فون پر ایک انٹرویو میں کہا کہ ظاہر ہے ایک دن پہلے کی نسبت اب یہ کہیں زیادہ آسان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ حملے موثر رہے ہیں اور سفارت کاری کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔

خامنہ ای کی موت کے بعد ایران کی قیادت کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ وہاں قیادت کے لئے "کچھ اچھے امیدوار موجود ہیں” تاہم انہوں نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔

ایران کی جانب سے جوابی کارروائی پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ یہ وہی ہے جس کی ہمیں توقع تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا خیال تھا کہ یہ دوگنا ہوگا لیکن اب تک یہ ہماری توقعات سے کم رہا ہے۔

اس سے قبل خامنہ ای کی موت کے اعلان کے بعد ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی مہم جاری رہے گی۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ شدید اور نشانے پر کی جانے والی بمباری پورے ہفتے یا جب تک ضرورت پڑی، بغیر کسی تعطل کے جاری رہے گی۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں