واشنگٹن (شِنہوا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر تہران واشنگٹن کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو "ہم جان لیں گے” کہ آیا ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ متنبہ کر نے میں درست تھے کہ امریکی حملہ خطے میں جنگ بھڑکا سکتا ہے۔
خامنہ ای نے اتوار کو تہران میں ایک اجلاس کے دوران کہا تھا کہ اگر امریکہ ایران کے خلاف جنگ شروع کرتا ہے تو یہ ایک علاقائی جنگ ہوگی۔
جب ایک صحافی نے خامنہ ای کے اس بیان کے بارے میں پوچھا تو ٹرمپ نے کہا کہ ظاہر ہے وہ یہی کہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس دنیا کے سب سے بڑے اور طاقتور بحری جہاز وہاں موجود ہیں، چند دنوں میں بہت قریب ہوں گے اور امید ہے کہ ہم ایک معاہدہ کر لیں گے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر ہم معاہدہ نہیں کرتے، تو پھر ہم جان لیں گے کہ آیا وہ (خامنہ ای) درست تھے یا نہیں۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے آن لائن ادارے ایکسيوس نے اتوار کو رپورٹ کیا کہ ترکیہ، مصر اور قطر اس ہفتے کے آخر میں انقرہ میں ایک اجلاس منعقد کر رہے ہیں، جس میں ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایران کے سینئر اہلکار شریک ہوں گے۔
رپورٹ میں نام ظاہر نہ کرنے والے وائٹ ہاؤس کے عہدیداروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی حملے شروع کرنے کے بارے میں تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ ماہ کے آخر میں مشرق وسطیٰ میں ایک ایئر کرافٹ کیریئر سٹرائیک گروپ اور متعدد جنگی جہاز بھیجے تھے۔
ایران میں جاری بے چینی اور تہران اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ٹرمپ نے پچھلے ماہ پولیٹیکو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انہیں لگتا ہے کہ اب ایران میں نئی قیادت کی تلاش کا وقت ہے۔
خامنہ ای نے اتوار کو کہا تھا کہ ایران جنگ شروع نہیں کرے گا اور کسی ملک پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تاہم ایرانی عوام ان لوگوں کو سخت جواب دیں گے جو ان پر حملہ یا ہراساں کرنے کی کوشش کریں گے۔


