بیجنگ(شِنہوا)2025 میں چین کی فلمی مارکیٹ نے زبردست بحالی کی ہے۔ ٹکٹوں کی سالانہ فروخت تقریباً 22 فیصد اضافے کے ساتھ 51.83 ارب یوآن (تقریباً 7.37 ارب امریکی ڈالر) تک پہنچ گئی ہے۔ اس کامیابی کی بڑی وجہ اینیمیشن فلموں کا غیر معمولی رجحان رہا جس نے مجموعی آمدنی کا تقریباً نصف حصہ اپنے نام کیا۔
چائنہ فلم ایڈمنسٹریشن کی جانب سے جمعرات کے روز جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق یہ نمایاں بحالی 2024 کی 42.5 ارب یوآن کی مجموعی آمدنی کے بعد سامنے آئی اور اس سال کا آغاز اور اختتام 2 ریکارڈ توڑ اینیمیٹڈ سیکوئلز سے ہوا۔ سال کے آغاز میں مقامی بلاک بسٹر "نی جا 2” نے مارکیٹ کو گرما دیا جبکہ سال کے اختتام پر ڈزنی کی "زوٹوپیا 2” نے زبردست تیزی پیدا کی۔ ان دونوں فلموں نے مل کر 2025 کو وہ سال بنا دیا جسے تجزیہ کار اینیمیشن کا سنہرا سال قرار دے رہے ہیں اور اس بات کو اجاگر کیا کہ فلم کی اصل پہچان اس کی معیاری کہانی ہی ہوتی ہے، چاہے اس کی اصل کہیں سے بھی ہو۔
اینیمیشن نے اس سال غیر معمولی غلبہ حاصل کیا اور 2025 کے باکس آفس کا 48.77 فیصد حصہ اپنے نام کیا۔ 4 اینیمیٹڈ فلمیں سال کی ٹاپ 10 فہرست میں شامل ہوئیں جن میں "نی جا 2” پہلے، "زوٹوپیا 2” دوسرے، "نوباڈی” چھٹے اور "بونی بیئرز: فیوچر ری بورن” نویں نمبر پر رہیں۔
سب سے آگے رہتے ہوئے "نی جا 2” جو ایک دیومالائی باغی کردار کی جدید تشریح ہے، نے صرف چینی مین لینڈ میں 15.4 ارب یوآن کی شاندار کمائی کی جبکہ عالمی سطح پر اس کی آمدنی 2.2 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، یوں یہ دنیا کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی اینیمیٹڈ فلم بن گئی۔
پیکنگ یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف فلم، ٹیلی ویژن اینڈ تھیٹر کے ڈائریکٹر چھن شوگوانگ نے کہا کہ یہ چینی سینما کا ایک کرشمہ اور عروج ہے، ایک ایسا ریکارڈ جو شاید طویل عرصے تک نہ ٹوٹ سکے۔


