اقوام متحدہ(شِنہوا)اقوام متحدہ کے کیپیٹل ڈیویلپمنٹ فنڈ (یو این سی ڈی ایف) کے ایگزیکٹو سیکرٹری پرادیپ کروکولا سوریا نے کہا ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے چین کا ہدف پر مبنی غربت کے خاتمے کا طریقہ کار دنیا بھر کے بہت سے ممالک کے لئے ایک قابل تقلید سبق ہے۔
شِنہوا کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ چین نے گزشتہ بہت سے سالوں کے دوران جو کام کیا ہے وہ بہت سے ممالک کے لئے سیکھنے کا ایک نمونہ ہے۔ ایسے ممالک جو غربت کے خاتمے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور غربت میں کمی چاہتے ہیں، وہ اس ضمن میں سیکھنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں اور کامیاب ہونے والے نمونوں کو دہرا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کا نظام مکالمے، مذاکرات، استعداد کار میں اضافے، پالیسی اصلاحات، ضوابط اور اسی طرح کے دیگر اقدامات کی حمایت کرنے میں موثر ہے، جو ترقیاتی مقاصد کے حصول کے لئے نہایت اہم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خاص طور پر اس وقت جب ترقیاتی امداد میں کمی آ رہی ہو، تو اتنا ہی اہم کام یہ ہے کہ ایسے طریقے تلاش کئے جائیں جن کے ذریعے نجی شعبے کی مالی معاونت اس ترقیاتی ماحول میں آنا شروع ہو جائے جہاں وہ پہلے شامل نہیں رہی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں یو این سی ڈی ایف مدد کر سکتا ہے۔
انہوں نے چین کو ان بہت سے ممالک، جن کو یو این سی ڈی ایف معاونت فراہم کرتا ہے، کا اہم شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین کی طویل المدتی سرمایہ کاری کی حکمت عملی، قابل تجدید توانائی ذرائع پر سرمایہ کاری کرنے کی حکمت عملی اور غربت کے خاتمے کی حکمت عملی سب کے سب اہم اسباق ہیں جنہیں ہمیں سیکھنے کی ضرورت ہے اور انہیں دوسرے ممالک تک پہنچانا ہو گا۔
وہ اپنے آئندہ دورہ چین کے بارے میں ‘انتہائی پُرجوش’ تھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے توقع ہے کہ ان رابطوں کے ذریعے میں چین کے شراکت داروں کو ترغیب دے سکوں کہ وہ ترقی پذیر دنیا میں سرمایہ کاری کی حمایت کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ ان ممالک میں کاروبار پھلے پھولیں جنہیں ہم مدد فراہم کر رہے ہیں، جو بالآخر سب کے مفاد میں ہے۔


