بِشکیک(شِنہوا)کرغزستان کی مارکیٹ کے ایک ماہر نے کہا ہے کہ چین اور یورپ کے درمیان مال بردار ریل روٹس وسطی ایشیائی ممالک کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
کرغزستان کی مارکیٹ ایسوسی ایشن کے صدر سرگئی پونوماریف نے شِنہوا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ چین۔یورپ مال بردار ریل سروس، جو وسطی ایشیائی ممالک سے گزرتی ہے، خطے کے لئے ایک بڑا منصوبہ ثابت ہوئی ہے۔ یہ نہ صرف معاشی اور بنیادی شہری سہولتوں کے فوائد فراہم کرتی ہے بلکہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کر کے لوگوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔
نومبر کے شروع میں چین کے شمال مغربی صوبے شانشی کے دارالحکومت شی آن میں ” مشترکہ مستقبل کے لئے ایشیا اور یورپ کو جوڑنا” کے موضوع پر منعقدہ چین ریلوے ایکسپریس کوآپریشن فورم کےمطابق اس ٹرین سروس کے ذریعے 53 اقسام کا سامان منتقل کیا گیا جن میں 50 ہزار سے زائد اشیاء شامل تھیں۔
چین۔یورپ مال بردار ٹرینیں مختلف ممالک کی بڑھتی ہوئی تعداد میں برانڈڈ مصنوعات چینی منڈی تک لا رہی ہیں جبکہ دوسری طرف یوریشیا کے چاروں طرف زمین سے گھرے کئی ممالک کو سمندری راستوں تک رسائی بھی فراہم کر رہی ہیں۔
علاقائی روابط کی تاریخی بنیادوں کا ذکر کرتے ہوئے پونوماریف نے کہا کہ قدیم شاہراہ ریشم صرف تجارتی راستوں کا مجموعہ نہیں تھی بلکہ اس کے قافلوں نے راستوں کی تعمیر اور ثقافتی تبادلے میں اہم کردار ادا کیا۔ چین کا ریشم بھی انہی راستوں کے ذریعے یورپ پہنچتا تھا جو آج کے کرغزستان سے گزرتے تھے۔
پونوماریف نے چین کی تجویز کردہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کو اس تاریخی کردار کو آگے بڑھانے کی ایک کوشش قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اسی تجربے کو آگے بڑھاتے ہوئے بیلٹ اینڈ روڈ کی مشترکہ تعمیر بلاشبہ ایک بہت بڑا منصوبہ ہے۔ کرغزستان ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے اس کی حمایت کی۔
انہوں نے کہا کہ کرغزستان دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں سے ایک چین کو مشرقی اور مغربی یورپ سے جوڑنے میں ایک اہم کڑی بنے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جیسے جیسے یہ ریل روٹس بڑھ رہے ہیں، وسطی ایشیا اس پورے عمل میں ایک زیادہ آسان اور تزویراتی پل بنتا جا رہا ہے۔


