اسٹینڈ اپ 1 (انگریزی): ہوئی پی پی، نمائندہ شِنہوا
“اگر آپ آئندہ پانچ برسوں میں چین کی معیشت کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ایک نیا لفظ بار بار سننے کو ملے گا اور وہ ہے ‘نئی معیاری پیداواری قوتیں’۔ چلیں میں آپ کو دکھاتی ہوں کہ یہ ‘معیار’ عملی طور پر کیا معنی رکھتا ہے۔آئیے چلتے ہیں۔”
چین گزشتہ پندرہ برسوں سے دنیا کا سب سے بڑا صنعتی ملک ہے۔
اب جب ہر طرف "نئی معیاری پیداواری قوتوں” کی بات ہو رہی ہے تو کیا یہ پرانے کارخانے اب غیر اہم ہو گئے؟
مختصر جواب: ہرگز نہیں۔
ہم چین کے شمالی علاقے کی ایک اسٹیل مل میں موجود ہیں۔
یہاں انجینئروں نے اسٹیل کو انتہائی باریک کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
یہ مقامی ٹیکنالوجی 700 سے زائد آزمائشی مراحل کے بعد تیار ہوئی۔
یہ انتہائی باریک اسٹیل اب خلائی صنعت سے لے کر برقی اشیا تک مختلف شعبوں میں استعمال ہو رہا ہے۔
تیانجن کے لینووو پلانٹ میں لیپ ٹاپس محض دو گھنٹوں میں 150 سے زائد ٹیسٹوں سے گزرتے ہیں اور حیران کن بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ بغیر کسی مزدور کے انجام پاتا ہے۔
پھر چین کے جنوب مغربی شہر میانیانگ میں ایک آٹو پارٹس فیکٹری ہے جہاں انسان نما روبوٹ مختلف کام سیکھ رہے ہیں۔
چین کے جدید صنعتی نظام کے وژن کے پس منظر میں ترقی یافتہ مینوفیکچرنگ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ مصنوعی ذہانت اور فائیو جی کے میدان میں ملک کی کامیابی کوئی عارضی ٹیکنالوجی کا غبار نہیں بلکہ صنعتوں کو جدید بنانے اور حقیقی معیشت کو مضبوط کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔
یہ ایک روبوٹیکسی ہے۔ جی ہاں اس میں ڈرائیور موجود نہیں ہے۔
چین کی برقی گاڑیوں اور بیٹریوں میں طاقت کو اکثر خودکار صنعت کے انقلاب میں "پہلا مرحلہ” قرار دیا جاتا ہے۔
اور "دوسرا مرحلہ” اسمارٹ مینوفیکچرنگ سے متعلق ہے جس میں بیجنگ، ووہان، گوانگ ژو اور دیگر شہروں میں خودکار ڈرائیونگ کے تجربات شامل ہیں۔
اگلا مرحلہ: آئندہ دہائی میں چین کا ہدف ہائی ٹیک مستقبل کی تعمیر ہے جس میں نئی توانائی، انقلابی مواد، بایوٹیکنالوجی، کوانٹم ٹیکنالوجی، دماغ کمپیوٹر رابطہ نظام، 6G اور حتیٰ کہ جوہری فیوژن جیسے شعبے بھی شامل ہیں۔
اور یہ ٹیکنالوجیز آپ کی توقع سے کہیں تیز رفتاری سے ہمارے سامنے آ رہی ہیں۔
خودکار گاڑیوں اور ڈرونز کے لئے تجرباتی زون شروع کر کے چین فعال طور پر مستقبل کی منڈی کی بنیاد رکھ رہا ہے اور ان نظریات کو لیب سے حقیقت تک تیز رفتاری سے لے جا رہا ہے۔
تو سوال یہ ہے کہ اتنے سارے امید افزا شعبوں میں آپ کس پر سرمایہ لگائیں گے؟ مختلف علاقوں کے لئے کلید یہ ہے کہ وہ اپنی منفرد طاقتوں کو بروئے کار لائیں۔ یہ سب کے لئے ایک ہی فارمولے کا معاملہ نہیں۔
جہاں ہوا ہے وہاں مقامی لوگوں نے ٹربائنز نصب کئے ہیں۔ جہاں صحرائی سورج ہے وہاں سولر پینلز سب سے واضح انتخاب ہیں۔ اور ساحلی صوبے سمندر کی جانب نئے معاشی مواقع تلاش کر رہے ہیں۔
اپنا مخصوص شعبہ تلاش کر کے ہر خطہ اس نئے صنعتی انقلاب کا حصہ بن سکتا ہے۔
اسٹینڈ اپ 2 (انگریزی): ہوئی پی پی، نمائندہ شِنہوا
"اہم بات یہ ہے کہ یہ نئی پیداواری طاقت معیار پر مرکوز ہے صرف مقدار پر نہیں۔”
یہ پرانے ترقی کے ماڈل کی طرح نہیں ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کے ذریعے آگے بڑھنے والا زیادہ مؤثر قدم ہے۔ اور یہی چیز اسے مستقبل کے لئے امید افزا بناتی ہے۔
بیجنگ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
چین میں "نئی معیاری پیداواری قوتیں” جدید صنعتی انقلاب کی علامت
مصنوعی ذہانت اور فائیو جی پر مبنی صنعتیں مضبوط ہو رہی ہیں
تیانجن میں لیپ ٹاپس کو 2 گھنٹے میں 150 ٹیسٹوں سے گزارا جاتا ہے
چین میں خلائی اور برقی صنعتوں میں انتہائی باریک اسٹیل کا استعمال
میانیانگ میں انسان نما روبوٹس انسانی کام سیکھ رہے ہیں
چین کی برقی گاڑیاں اور بیٹریاں خودکار صنعت کے انقلاب کا پہلا مرحلہ ہیں
بیجنگ، ووہان اور گوانگ ژو میں خودکار ڈرائیونگ کے تجربات جاری
نئی توانائی، کوانٹم ٹیکنالوجی اور دماغ کمپیوٹر رابطہ نظام مستقبل کی تیاری
خودکار گاڑیاں اور ڈرونز: لیب سے حقیقت تک تیز رفتاری سے
خودکار گاڑیوں اور ڈرونز کی صورت میں اب نظریات حقیقت رہے ہیں
ہر خطہ اپنی منفرد طاقت کے مطابق نئے صنعتی انقلاب کا حصہ بنے


