زنجبار، تنزانیہ (شِنہوا) جب عبداللہ مسوفے عبداللہ چھ سال قبل چائنہ ہاربر انجینئرنگ کمپنی لمیٹڈ (سی ایچ ای سی) سے وابستہ ہوئے تو انہوں نے دارالسلام میں ایک تعمیراتی منصوبے پر عام کارکن کی حیثیت سے کام شروع کیا۔
آج وہ تنزانیہ کے زنجبار منگاپوانی نئی بندرگاہ منصوبے میں انسانی وسائل کے منیجر ہیں۔ وہ اس تبدیلی کا کریڈٹ چینی کمپنی کی جانب سے فراہم کردہ تربیت، تجربے اور مواقع کو دیتے ہیں۔
سی ایچ ای سی کے ساتھ عبداللہ کا پیشہ ورانہ سفر دارالسلام بندرگاہ کے منصوبے سے شروع ہوا، اس کے بعد وہ تنزانیہ کے علاقے کلوا میں کلوا ماسکو ماہی گیری بندرگاہ کے منصوبے پر کام کرتے رہے اور بالآخر زنجبار پہنچے، جہاں انہیں عملے کے انتظام اور مقامی حکام کے ساتھ رابطہ کاری کی زیادہ ذمہ داریاں سونپی گئیں۔
عبداللہ نے شِنہوا کو بتایا کہ ’’میرا پیشہ ورانہ سفر قدم بہ قدم آگے بڑھا ہے۔ مجھے بہت سے مواقع دیئے گئے اور انہی مواقع نے مجھے انسانی وسائل کے منیجر کے عہدے تک پہنچنے میں مدد دی۔‘‘
اب ان کی ذمہ داریوں میں عملے سے متعلق امور نمٹانا، حکومتی حکام سے رابطہ رکھنا اور منصوبے پر کام کرنے والے مقامی ملازمین کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا شامل ہے۔
عبداللہ کے لئے اس تجربے نے نہ صرف پیشہ ورانہ مہارتیں پیدا کرنے میں مدد دی بلکہ اس خواہش کو بھی مضبوط کیا کہ وہ اپنے پیشے کے ذریعے ان برادریوں کے لئے مثبت کردار ادا کریں جہاں وہ کام کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’میں نے اپنی ذمہ داریاں موثر انداز میں انجام دینا سیکھا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ برادری میں مثبت تبدیلی لانے کا طریقہ بھی سیکھا ہے۔‘‘
ایسا ہی سفر عبداللہ موالیکو منڈیلی نے بھی طے کیا، جو لیبارٹری ٹیکنیشن ہیں۔ وہ 2023 میں کلوا ماسکو ماہی گیری بندرگاہ کے منصوبے میں سی ایچ ای سی سے وابستہ ہوئے اور 26 جولائی کو زنجبار منتقل ہوئے۔
33 سالہ منڈیلی کو لیبارٹری میں 10 سال سے زیادہ کا تجربہ حاصل ہے۔ اب وہ لیبارٹری اسسٹنٹ اور فورمین کے طور پر کام کرتے ہیں، جہاں مقامی کارکنوں کی نگرانی کے ساتھ ساتھ مٹی، تعمیراتی اجزاء، کنکریٹ، چٹانوں اور دیگر تعمیراتی مواد کی جانچ بھی کرتے ہیں۔
منڈیلی نے بتایا کہ چینی منیجرز اور ساتھیوں سے حاصل ہونے والی تربیت کے ذریعے ان کی فنی مہارتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’میرے منیجر نے مجھے لیبارٹری میں جانچ کے طریقہ کار کے بارے میں وسیع تربیت دی ہے۔ چینی ٹیم اور کمپنی نے بہت تعاون کیا ہے۔ یہ کمپنی بہترین ہے کیونکہ یہ ہمیں وہ چیزیں سکھانے میں سرمایہ کاری کرتی ہے جنہیں جاننا ہمارے لئے ضروری ہے۔‘‘
منڈیلی کے لئے یہ ملازمت ان کے خاندان کے لئے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ بننے کے ساتھ ساتھ وسیع تر برادری کے لئے کردار ادا کرنے کا موقع بھی فراہم کر رہی ہے۔
عبداللہ اور منڈیلی کے تجربات منگاپوانی منصوبے میں مقامی افراد کو روزگار دینے اور ان کی مہارتیں نکھارنے کے حوالے سے سی ایچ ای سی کے وسیع تر طریقہ کار کی عکاسی کرتے ہیں۔
منصوبے کے تعمیراتی منیجر ژاؤ یاوپو کے مطابق اس وقت تقریباً 500 افراد ملازمت کر رہے ہیں، جن میں مقامی کارکنوں کا حصہ تقریباً 80 فیصد ہے۔


