ہومتازہ ترینچین اور مصر کے عملی تعاون سے مفید نتائج برآمد ہو رہے...

چین اور مصر کے عملی تعاون سے مفید نتائج برآمد ہو رہے ہیں

بیجنگ (شِنہوا) اس سال چین اور مصر اپنے سفارتی تعلقات کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر ماحول دوست توانائی، ڈیجیٹل ڈھانچے، فضائی و خلائی اور زراعت کے شعبوں میں تعاون مزید گہرا کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں اس شراکت داری کو ایک نئی توانائی مل رہی ہے جو سات دہائیوں کی علاقائی و عالمی تبدیلیوں کا کامیابی سے مقابلہ کر چکی ہے۔

مصر پہلا عرب اور افریقی ملک تھا جس نے 30 مئی 1956 کو عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کرتے ہوئے تعلقات قائم کئے۔ دونوں ممالک نے 2014 میں اپنے تعلقات کو باضابطہ طور پر ایک جامع تذویراتی شراکت داری کا درجہ دیا اور 2024 میں مصر کی شمولیت کے بعد اب دونوں برکس کے رکن ہیں۔

آج چین ’بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو‘اور ’مصر ویژن 2030‘ کے ملاپ کے ذریعے مصر کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے جسے بڑھتی ہوئی چینی سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں کی حمایت حاصل ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تذویراتی ہم آہنگی اور قریبی سیاسی و اقتصادی ہم آہنگی فروغ پا رہی ہے جس سے انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی حامل برادری کی تعمیر کے چینی ویژن اور امن، استحکام اور ہمہ گیر ترقی کو فروغ دینے کے مصری ویژن کو تقویت ملتی ہے۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے مشرق میں تقریباً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ چائنہ سٹیٹ کنسٹرکشن انجینئرنگ کارپوریشن نے تعمیر کیا جو 20 فلک بوس عمارتوں پر مشتمل ہے۔ اس کا مرکزی شاہکار 385.8 میٹر بلند ’آئیکونک ٹاور‘ ہے جو اس وقت افریقہ کی بلند ترین عمارت ہے۔

قاہرہ کے مشرق میں ایک اہم صنعتی اور رہائشی مرکز ’10 ویں رمضان سٹی‘ کے لئے لائٹ ریل ٹرانزٹ نظام چینی اور مصری کمپنیوں کا مشترکہ تعمیر کردہ ایک نمایاں بی آر آئی منصوبہ ہے۔ یہ ذرائع آمد و رفت جدید بنانے، شہری نقل و حرکت کو فروغ دینے اور قاہرہ کو نئے تیار شدہ شہری مراکز سے جوڑنے کی مہم کا حصہ اور مصر-چین کے بنیادی ڈھانچے کے تعاون کا ایک شاہکار ہے۔

رواں سال جون کے آخر تک چین-مصر سویز اقتصادی و تجارتی تعاون زون نے 200 سے زائد کمپنیوں کو راغب کیا اور 10 ہزار سے زیادہ براہ راست ملازمتیں پیدا کیں اور مزید ہزاروں روزگار کے مواقع کے لئے معاونت کی۔

دسمبر 2023 میں چین نے ’مصر سیٹ 2‘خلا میں روانہ کیا جس کے بعد مصر سیٹلائٹ کی تیاری، مربوط کرنے اور آزمائش کے لئے مکمل خود مختار صلاحیتوں کا حامل پہلا افریقی ملک بن گیا۔

آج چینی کمپنیاں مصر کے توانائی کے شعبے میں سب سے نمایاں غیر ملکی کمپنیوں میں شامل ہیں۔ ایک طرف مصر کو بجلی کی شدید بڑھتی ہوئی طلب کا سامنا ہے تو دوسری طرف وہ ہوا اور شمسی توانائی کے وسیع وسائل سے مالا مال ہے اور اس کی حکومت نے اپنے ویژن 2030 ترقیاتی منصوبے میں شمسی اور ہوا سے توانائی حاصل کرنے کے بڑے اہداف مقرر کئے ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں