ہومتازہ ترینمصنوعی ذہانت کا عروج: چین کی ڈیٹا معیشت کا حجم 67.8 کھرب...

مصنوعی ذہانت کا عروج: چین کی ڈیٹا معیشت کا حجم 67.8 کھرب یوآن تک پہنچ گیا

گوئی یانگ (شِنہوا) چین کی ڈیٹا صنعت نے 2025 میں تیزی سے ترقی کا سلسلہ جاری رکھا اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے تیزی سے فروغ پاتے شعبے کی ترقی میں معاونت کی۔

چائنہ انٹرنیشنل بگ ڈیٹا انڈسٹری ایکسپو 2026 کے افتتاح کے موقع پر جاری ہونےوالے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں چین کی ڈیٹا صنعت کا حجم 67.8 کھرب یوآن (تقریباً 10کھرب امریکی ڈالر) تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کی نسبت 15.7 فیصد زائد ہے۔

اے آئی ایپلی کیشن سافٹ ویئر سمیت ڈیٹا سے متعلق سافٹ ویئر مصنوعات اور ٹوکن سروسز سمیت ڈیٹا وسائل کی مصنوعات کی مجموعی پیداواری مالیت 49.9 کھرب یوآن رہی، جو ڈیٹا صنعت کی مجموعی مالیت کا 73.6 فیصد ہے۔

اس ماہ تک ملک بھر میں ایک لاکھ 26 ہزار سے زائد اعلیٰ معیار کے ڈیٹا سیٹس تیار کئے جا چکے ہیں، جن کا مجموعی حجم 1,815 پیٹا بائٹس سے تجاوز کر گیا ہے، جو مارچ کے مقابلے میں 89 فیصد سے زیادہ اضافہ ہے۔

چین کے قومی ڈیٹا بیورو کے سربراہ لیو لی ہونگ نے کہا کہ’’اے آئی کی ترقی میں ڈیٹا کا بنیادی کردار ہے۔ جہاں کہیں اے آئی ترقی کرے گا، ہم وہاں اعلیٰ معیار کے ڈیٹا سیٹس کی تیاری اور استعمال کو آگے بڑھائیں گے۔‘‘

نمائش کا انعقاد چین کے جنوب مغربی صوبے گوئی ژو کے دارالحکومت گوئی یانگ میں ہو رہا ہے۔ گوئی ژو چین کے قومی ’’ایسٹ ڈیٹا، ویسٹ کمپیوٹنگ‘‘ منصوبے کا ایک اہم مرکز ہے۔ یہ قومی حکمت عملی بجلی کے گرڈ کی طرح کام کرتی ہے، جس کے تحت چین کے معاشی طور پر ترقی یافتہ مشرقی ساحلی علاقوں میں ڈیٹا پراسیسنگ کی بھاری ضروریات کو قدرتی وسائل سے مالا مال مغربی علاقوں کی جانب منتقل کیا جاتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس منصوبے میں مغربی خطے میں دستیاب ہوا اور پن بجلی جیسے وافر ماحول دوست توانائی کے ذرائع سے استفادہ کیا جاتا ہے، جس سے یہ ماحول دوست ٹیکنالوجی کے فروغ اور کاربن میں کمی کی جانب ایک اہم سنگ میل بن گیا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں