بیجنگ (شِنہوا) چین کی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ چین نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی طبی عکس بندی کی تحقیق کے لئے اخلاقی رہنما اصول جاری کئے ہیں، جن کا مقصد اس ٹیکنالوجی کے الگورتھم کی تیاری، آزمائشی تصدیق اور طبی استعمال کو منظم کرنا ہے۔
اے آئی پر مبنی طبی عکس بندی میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے سی ٹی اسکین، ایم آر آئی اور الٹراساؤنڈ کی تصاویر کا تجزیہ کیا جاتا ہے جس سے ڈاکٹروں کو بیماریوں کی نشاندہی اور تشخیص کا عمل بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔ تاہم اس ٹیکنالوجی میں بڑی مقدار میں حساس طبی معلومات استعمال ہوتی ہیں، جس کے باعث رازداری متاثر ہونے، طریقہ کار میں جانبداری اور ذمہ داری کے تعین میں مشکلات جیسے خطرات موجود ہیں۔
سائنس و ٹیکنالوجی کی اخلاقیات کے متعلق کمیٹی کی ذیلی طبی اخلاقیات کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ ان رہنما اصولوں میں 6 بنیادی اصول وضع کئے گئے ہیں جن میں انسانی فلاح و بہبود کو بہتر بنانا، انصاف کو فروغ دینا، انسانی خودمختاری کا احترام، رازداری اور ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنانا، سلامتی اور موثر نگرانی کو یقینی بنانا اور شفافیت کو فروغ دینا شامل ہیں۔ رہنما اصولوں میں کہا گیا ہے کہ مریضوں کی صحت سے متعلق مفادات کو اولین ترجیح دی جائے گی۔
رہنما اصولوں کے تحت محققین کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ تحقیق میں شامل افراد کو مکمل معلومات دے کر رضامندی حاصل کریں جبکہ شرکاء کو کسی بھی وقت اپنی اجازت واپس لینے کا حق حاصل ہوگا۔
رہنما اصولوں کے مطابق حتمی ذمہ داری انسانوں ہی پر عائد ہوگی۔ اے آئی سے حاصل ہونے والے نتائج کو حتمی تشخیص کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا اور حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار ڈاکٹروں کے پاس رہے گا۔
رہنما اصولوں میں اے آئی ماڈلز کی کارکردگی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے اور طریقہ کار میں انصاف کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے تاکہ تربیتی اعدادوشمار میں عدم توازن کے باعث تشخیص میں پیدا ہونے والی جانبداری کو کم کیا جا سکے۔


