ہومتازہ ترینامریکی صارفین کے اعتماد میں سالانہ بنیاد پر 11 فیصد کمی

امریکی صارفین کے اعتماد میں سالانہ بنیاد پر 11 فیصد کمی

واشنگٹن (شِنہوا) مشی گن یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اگست میں امریکی صارفین کے اعتماد میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 11 فیصد کمی ہوئی ہے۔
یونیورسٹی کے وسیع پیمانے پر زیر نگرانی صارفین کے اعتماد کے اشاریے کے مطابق یہ کمی اس خدشے کے باعث ہوئی کہ مستقبل قریب میں مہنگائی بلند سطح پر برقرار رہے گی۔
رپورٹ کے مطابق اگست میں تمام سیاسی گروہوں میں صارفین کے اعتماد میں کمی ہوئی، تاہم ریپبلکنز میں یہ کمی خاص طور پر نمایاں رہی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسے گروہوں میں بھی صارفین کے اعتماد میں زیادہ نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی جو عموماً زندگی کے اخراجات میں اضافے کو برداشت کرنے کی کم صلاحیت رکھتے ہیں، جن میں عمر رسیدہ افراد، کم اور متوسط آمدنی والے صارفین اور حصص نہ رکھنے والے افراد شامل ہیں۔
بعض ماہرین نے کہا کہ یہ نتائج دیگر معاشی عوامل کے ساتھ مل کر امریکی صارفین پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔
پیٹرسن انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل اکنامکس کے غیر مقامی سینئر فیلو گیری ہوف باؤر نے شِنہوا کو بتایا کہ ’’جب مہنگائی 3 فیصد سے زیادہ ہو، روزگار میں معمولی اضافہ ہو اور حقیقی آمدنی میں کوئی اضافہ نہ ہو تو گھرانوں کے خوش ہونے کی کوئی خاص وجہ نہیں۔‘‘
رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ تنازع سمیت جاری پالیسی غیر یقینی صورتحال کے باعث صارفین کو توقع ہے کہ قلیل اور طویل مدتی دونوں عرصوں میں پٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صارفین کے معاشی نقطہ نظر کو طویل عرصے سے متاثر کرنے والے مالی خدشات کے علاوہ اب انہیں یہ تشویش بھی بڑھ رہی ہے کہ دیگر شعبوں میں بھی معاشی حالات کمزور ہو سکتے ہیں۔
بعض ماہرین نے کہا کہ اگست میں صارفین کے اعتماد میں کمی نمایاں تھی اور بظاہر یہ محض عارضی اتار چڑھاؤ نہیں تھا۔

سنٹر فار اکنامک اینڈ پالیسی ریسرچ کے شریک بانی اور معاشی ماہر ڈین بیکر نے شِنہوا کو بتایا کہ ’’میں کبھی بھی ایک ماہ کی تبدیلی کو بہت زیادہ اہمیت نہیں دیتا، لیکن یہ ایک بڑی تبدیلی تھی اور زیادہ تر موجودہ حالات کے حوالے سے تھی۔ میں اسے زیادہ اہم سمجھتا ہوں کیونکہ یہ اس بات کی عکاسی کرتی ہے جو لوگ خود دیکھ رہے ہیں، نہ کہ وہ جو خبروں یا سوشل میڈیا پر سنتے ہیں۔ اس بات کا بھی زیادہ امکان ہے کہ اس سے ان کے رویے پر براہ راست اثر پڑے۔‘‘

بیکر نے کہا کہ ’’ اس سے موسم خزاں میں داخل ہوتے ہوئے صارفین کے اخراجات میں کمی کے خدشات پیدا ہوتے ہیں، جس سے معاشی ترقی مزید کمزور ہو سکتی ہے۔‘‘

یہ رپورٹ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل سامنے آئی ہے، جبکہ گزشتہ انتظامیہ کے دور میں جڑ پکڑنے والی مہنگائی اب بھی گھریلو بجٹ پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ سروے میں ظاہر ہونے والے معاشی خدشات ریپبلکنز کے لئے مشکلات میں اضافہ کر سکتے ہیں، جو وفاقی حکومت کو کنٹرول کر رہے ہیں اور کانگریس میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں