تہران (لارڈ میڈیا): ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسلامی ممالک میں باہمی سیکیورٹی اور عدم جارحیت کے معاہدے کی تجویز دی ہے۔ 40ویں بین الاقوامی اسلامی وحدت کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی دوسرے اسلامی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ ایران کا دفاعی مؤقف کسی مسلم ملک یا ہمسایہ ریاست کے خلاف دشمنی پر مبنی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی اسلامی ملک کو اپنی سرزمین دوسرے اسلامی ملک کے خلاف جارحیت کے لیے لانچنگ پیڈ بننے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔
مسعود پزشکیان نے مسلم ممالک کے درمیان باہمی سیکیورٹی اور عدم جارحیت کا معاہدہ کرنے کی تجویز دی، جس کے تحت مسلم ممالک ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت کا احترام کرنے کے پابند ہوں گے۔
ایرانی صدر کے مطابق ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے ایسے وقت میں شروع ہوئے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی رابطے جاری تھے اور اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات بھی دوبارہ شروع ہوئے تھے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق کانفرنس میں 40 ممالک سے تقریباً 600 ملکی و غیر ملکی شرکا شریک ہیں، اور یہ کانفرنس اتوار تک جاری رہے گی جس کے دوران ایران کے مختلف شہروں میں خصوصی اجلاس منعقد ہوں گے۔


