تہران (شِنہوا) ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن یہ سمجھ لے کہ تہران پر دباؤ ڈالنا کارگر نہیں تو امریکہ کے ساتھ سفارت کاری دوبارہ بحال کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے یہ بات جمعہ کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں کہی۔ وہ جمعرات کو تہران میں قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی سے اپنی ملاقات کا حوالہ دے رہے تھے، جس میں دونوں فریقوں نے ’’تعمیری بات چیت‘‘ کی۔
عراقچی نے کہا کہ ’’سفارت کاری کو دوبارہ راستے پر لانا ناممکن نہیں۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ امریکہ ایک سادہ حقیقت کو سمجھ لے کہ دباؤ کارگر نہیں ہوتا۔‘‘
انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ اعتماد سازی کرے، احترام کے ساتھ بات کرے، ایران کے حقوق کو تسلیم کرے اور ایران کے حوالے سے اپنے وعدوں کی پاسداری کرے۔
18 جون کو امریکہ اور ایران نے خطے میں جنگ کے خاتمے کے حوالے سے مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کئے تھے۔ یادداشت کے تحت دونوں ممالک کے درمیان حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لئے 60 روز کے اندر مذاکرات ہونا طے پائے تھے، جن کی مدت 17 اگست کو ختم ہونا تھی۔ تاہم گزشتہ ماہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد ان مذاکرات کا مستقبل تاحال غیر واضح ہے۔
اس ماہ کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سہارا فراہم کرنے والے کسی بھی ملک کے خلاف ’’اب تک کی سب سے تباہ کن معاشی کارروائی‘‘ کرنے کا اعلان کیا تھا۔


