بیجنگ (شِنہوا) قومی ترقی و اصلاحات کمیشن (این ڈی آر سی) اور وزارت مواصلات کے جاری ایک منصوبے کے مطابق چین نے 2030 تک ملک کے ترسیلی نظام کی ترقی کے اہداف مقرر کیے ہیں جن کا مقصد باہمی رابطے بہتر بنانا اور حقیقی معیشت کو زیادہ مئوثر معاونت فراہم کرنا ہے۔
منصوبے کے مطابق 2030 تک چین کو اپنے ترسیلی نظام کی ترقی میں نمایاں پیشرفت کی امید ہے جس میں ترسیل کے مراکز اور صنعتوں کے درمیان زیادہ بہتر ہم آہنگی، اندرونی و بیرونی رابطوں کا فروغ، زیادہ ماحول دوست و جدید سہولیات اور آلات اور قواعد و معلومات کا وسیع تر تبادلہ شامل ہے۔
اس منصوبے کا مقصد پورے معاشرے میں ترسیل کی لاگت مئوثر طریقے سے کم کرنا ہے جس کے تحت 2030 تک مجموعی سماجی ترسیلی اخراجات کو جی ڈی پی کے 13.1 فیصد پر لایا جائے گا جو 2025 کے اختتام کے مقابلے میں 0.8 فیصد پوائنٹس کم ہے۔
منصوبے میں بتایا گیا ہے کہ اس سے حقیقی معیشت کی کارکردگی اور صلاحیت میں بہتری آنے کے ساتھ ساتھ معاشی گردش کو ہموار بنانے اور اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
اس منصوبے میں سات شعبوں کے 17 اہم امور کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں ترسیل کے مراکز کی ترقی اور باہمی رابطہ کاری آگے بڑھانا، ترسیلی راہداریوں کی صلاحیت میں اضافہ، شہری و دیہی ترسیلی سہولیات کی خامیاں دور کرنا اور ترسیل کی سہولیات و آلات کی ڈیجیٹلائزیشن، سمارٹ ترقی اور ماحول دوست تبدیلی کو فروغ دینا شامل ہے۔
چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے دوران جن 6 شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے، ترسیل کا نظام ان میں سے ایک ہے، اس کے ساتھ دیگر پانچ ترجیحات میں پانی کا نظام، نئے طرز کا توانائی کا گرڈ، کمپیوٹنگ پاور، نیکسٹ جنریشن کمیونیکیشن اور شہری زیر زمین پائپ لائن کا نظام شامل ہے۔
این ڈی آر سی نے ان ترجیحات کو ایک مجموعے کے طور پر بیان کیا ہے جو گہرے باہمی رابطے، ایک دوسرے کی تقویت اور ہم آہنگ معاونت کی خصوصیات سے لیس ہیں۔
ابتدائی تخمینے کے مطابق رواں سال ان 6 ترجیحات اور اہم شعبوں میں سرمایہ کاری 70 کھرب یوآن ( تقریباً 10 کھرب 30 ارب امریکی ڈالر) سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔


