ہومتازہ ترینکیبیرا سے عالمی ٹاپ 15 تک: کینیا کی طالبہ نے چینی مقابلے...

کیبیرا سے عالمی ٹاپ 15 تک: کینیا کی طالبہ نے چینی مقابلے میں تاریخ رقم کر دی

نیروبی (شِنہوا) نیروبی یونیورسٹی میں جغرافیائی معلومات اور نقشہ سازی کی انجینئرنگ کی 23 سالہ طالبہ مریم اچینگ کینیاٹا کا "چائنیز برج” کے عنوان سے چینی زبان کی مہارت کے 25 ویں عالمی مقابلے میں تاریخ رقم کرنے کے بعد وطن واپسی پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔

نیروبی کی کچی آبادی کیبیرا میں پرورش پانے والی مریم کی زندگی کا رخ بچپن میں ٹیلی ویژن پر دیکھی گئی ایک فلم سے پیدا ہونے والے تجسس نے بدل دیا۔ چینی زبان سے ان کی دلچسپی اور شوق نے انہیں اس عالمی مقابلے میں کینیا کی تاریخ کی بہترین پوزیشن دلائی، جہاں وہ دنیا بھر کے مقابلہ کرنے والوں میں پہلے 15 میں شامل رہیں۔

مریم نے وطن واپسی پر بتایا کہ جب میری استاد نے پہلی مرتبہ مجھ سے پوچھا کہ میں نے اس مقابلے کے لئے درخواست کیوں نہیں دی تو میں نے کہا کہ ایسا نہیں کہ میں حصہ نہیں لینا چاہتی تھی بلکہ میں نے ہمت نہیں کی کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ میں کامیاب نہیں ہو سکوں گی۔

جمعرات کو شِنہوا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نے بتایا کہ سخت مقابلے کا آغاز ابتدائی امتحانات سے ہوا، جن میں امیدواروں کی چینی زبان سننے، بولنے اور لکھنے کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا گیا اور دنیا بھر سے آنے والے شرکاء کی تعداد کم کرتے ہوئے صرف 30 امیدواروں تک محدود کر دی گئی۔ انہوں نے اپنی غیر معمولی کامیابی کا سہرا رواں سال کے آغاز میں کینیا کے قومی فائنل میں کامیابی کے بعد دو ماہ کی سخت اور مسلسل تربیت کو دیا۔

نیروبی یونیورسٹی کے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر وانگ شانگ شوئے نے مریم کی کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا کہ کینیا کے طلبہ کو ان بین الاقوامی ہم جماعتوں کے مقابلے میں مختلف نوعیت کی ساختی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو صرف غیر ملکی زبانوں کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

وانگ نے کہا کہ کینیا میں طلبہ ہفتے میں صرف دو یا تین مرتبہ زبان کی کلاسیں لیتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں کینیا کے قومی چیمپئن عالمی سطح پر عموماً 70ویں سے 90 ویں پوزیشن کے درمیان رہتے تھے تاہم گزشتہ سال پہلی مرتبہ ٹاپ 30 میں جگہ بنانے کے بعد کینیا کی کارکردگی میں تیزی سے بہتری آئی اور اس سال یہ سفر ٹاپ 15 تک پہنچ گیا۔

وانگ نے کہا کہ اس سال مریم کا ٹاپ 15 میں پہنچنا کینیا کے لئے ایک بے مثال کامیابی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سخت تربیت اور اضافی محنت کے ذریعے ہمارے طلبہ عالمی سطح پر بھی نمایاں کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔

مریم کے خاندان کے لئے یہ کامیابی انتہائی فخر کا باعث ہے، خصوصاً ایک ایسے دور کے بعد جب خاندان کو شدید مالی مشکلات کا سامنا رہا۔ گزشتہ سال ان کے والد، جو مقامی سطح پر درزی کا کام کرتے ہیں، ان کی صحت کے مسائل کے باعث خاندان کو نقل مکانی کرکے دیہی علاقے کسومو کاؤنٹی منتقل ہونا پڑا۔

مریم کی 46 سالہ والدہ ہیلن جوما بونیو نے بیٹی کی عالمی سطح پر کامیابی پر گہرے جذبات کا اظہار کیا۔ چار بچوں کی پرورش غیر یقینی آمدن کے ساتھ ان کے لئے مسلسل جدوجہد ہے، تاہم بیٹی کی بین الاقوامی کامیابی ان کے لئے عزم، حوصلے اور سخت محنت کی ایک روشن مثال بن گئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ سنگ میل نہ صرف ان کے دیگر بچوں بلکہ ملک بھر کے نوجوانوں کے لئے بھی حوصلہ افزائی اور تحریک کا باعث بنے گا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں