نوم پنہ (شِنہوا) چوتھا کمبوڈیا ایشین فلم فیسٹیول (سی اے ایف ایف) اس وقت کمبوڈیا کے دارالحکومت نوم پنہ میں جاری ہے جہاں چین اور خطے کے دیگر ممالک کی منتخب دلکش فلمیں پیش کی جا رہی ہیں۔
یہ فلمی میلہ 24 سے 28 اگست تک شیڈول تھا جس میں تقریباً 30 منتخب فلمیں فیبل سینما اور لیجنڈ سینما اولمپیا میں مفت دکھائی گئیں۔ درجنوں موصولہ فلموں میں سے منتخب کی گئی ان فلموں میں چین، کمبوڈیا، بھارت، جاپان، ملائیشیا اور نیپال کی فلمیں شامل ہیں جبکہ چین کی تقریباً 20 فلمیں اس فہرست کا حصہ ہیں۔
جمعرات کی شام ایک ایوارڈ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کمبوڈیا کی وزیر ثقافت و فنون لطیفہ فوئیورنگ ساکونا نے عالمی سطح پر لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے میں سینما کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔
ساکونا نے کہا کہ ’’فلمیں اقوام کو آپس میں جوڑنے اور انہیں عالمی برادری کے قریب لانے کے لئے ایک پل کا کام کرتی ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ تیز رفتار تکنیکی اور ابلاغی ترقی کے موجودہ دور میں سینما سیاحتی مقامات کے فروغ، ان کی کشش بڑھانے اور لوگوں کو سفر کی ترغیب دینے کا ایک موثر ذریعہ بن چکا ہے۔
ساکونا نے سی اے ایف ایف کو ایشیائی سینما کے جشن اور فلمی صنعت کے درمیان روابط کو فروغ دینے کے لئے ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔
ساکونا نے کہا کہ ’’یہ سکرین رائٹرز، ہدایت کاروں، پروڈیوسروں، فنکاروں اور فلمی شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد کے لئے ایک ملاقات کی جگہ ہے جہاں وہ خیالات کے تبادلے، روابط قائم کرنے اور مشترکہ فلم سازی کے مواقع تلاش کر سکتے ہیں۔‘‘
کمبوڈیا کی وزارت ثقافت و فنون لطیفہ کے محکمہ سینما و ثقافتی فروغ کے ڈائریکٹر پوک بوراک نے کہا کہ اس فیسٹیول نے پورے ایشیا کی بہترین فلموں کو کمبوڈیا میں پیش کرکے مقامی فلمی صنعت کے لئے ایک پرجوش ماحول پیدا کیا ہے۔
بوراک نے کہا کہ کمبوڈیا میں چینی فلمیں بہت مقبول ہیں۔ ان کے مطابق اس مقبولیت کی وجہ صرف جدید تکنیکی معیار نہیں بلکہ جاندار کہانیاں اور دلچسپ سکرپٹس بھی ہیں۔


