بیجنگ (شِنہوا) چینی صدر شی جن پھنگ نے دو طرفہ کوششوں کے علاوہ ایک پرامن، محفوظ اور خوشحال ہمسائیگی کی تعمیر کے لئے علاقائی تعاون کو بھی انتہائی اہمیت دی ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم اس کی ایک واضح مثال ہے۔ صدر شی نے ایک بار کہا تھا کہ چین نے ہمیشہ اپنی پڑوسی سفارت کاری میں ایس سی او کو ترجیح دی ہے۔ 2013 سے انہوں نے ایس سی او کے ہر سربراہی اجلاس میں یا تو ذاتی طور پر یا ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی اور سکیورٹی، ترقی و ثقافتی تبادلوں کے شعبوں میں رکن ممالک کے درمیان قریبی تعاون کو فروغ دیا ہے۔
چینی صدر شی جن پھنگ یکم ستمبر 2025 کو چین کے شمالی شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے کونسل آف ہیڈز آف سٹیٹ کے 25 ویں اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔(شِنہوا)
چین اور اس کے پڑوسی ممالک کی جانب سے 2001 میں شنگھائی میں قائم کی جانے والی ایس سی او کے مشن کے مرکز میں شروع ہی سے اچھے پڑوسیوں والے تعلقات شامل رہے ہیں۔ گزشتہ سال چین کے شمالی بندرگاہی شہر تیانجن میں ایس سی او کے سربراہی اجلاس کی میزبانی کرتے ہوئے صدر شی نے کہا تھا کہ ’چین طویل المدتی اچھے تعلقات، دوستی اور تعاون کے معاہدے پر دستخط کرنے والا پہلا ملک تھا اور ہم نے دائمی دوستی قائم کرنے اور مخالفت سے گریز کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔‘
گزشتہ 25 برسوں میں ایس سی او جغرافیائی رقبے اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی جامع علاقائی تنظیم کے طور پر ابھری ہے اور اس نے وسیع تر شعبوں میں اپنے تعاون کا دائرہ کار بھی بڑھایا ہے۔
صدر شی نے تیانجن سربراہی اجلاس میں توانائی، ماحول دوست صنعت اور ڈیجیٹل معیشت کے لئے چین-ایس سی او تعاون کے تین پلیٹ فارمز کا اعلان کرنے کے علاوہ سائنسی و تکنیکی جدت طرازی، اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ و تکنیکی تعلیم کے تین معاون مراکز بھی قائم کئے۔ یہ اقدامات ایس سی او کے تمام ممالک کے لئے چین کی ترقی کے پیدا کردہ مواقع شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ پورے خطے میں پائیدار ترقی کو فروغ دینے کی خواہش ہے۔
ایس سی او چین کے پڑوسی ممالک کے درمیان کثیر الجہتی تعاون کے ایک وسیع تر نیٹ ورک کا حصہ ہے۔ صدر شی کی قیادت میں چین نے لان کانگ-می کانگ تعاون سے آسیان کی زیرِ قیادت مشرقی ایشیائی تعاون اور اپیک تک کے میکانزم کے ذریعے پڑوسی ممالک کے ساتھ کام کیا جس سے بہتر رابطہ کاری، گہرے معاشی انضمام اور عوامی قریبی تعلقات کو فروغ ملا ہے۔
وسطی ایشیا میں اس طرز عمل کو صدر شی کے شروع کردہ تعاون کے ایک نئے میکانزم کے ذریعے بھی آگے بڑھایا گیا ہے۔ 2023 میں انہوں نے چین کے شہر شی آن میں چین-وسطی ایشیا سربراہی اجلاس کا آغاز کیا جس نے چین اور قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کو اکٹھا کیا۔
دو سال بعد صدر شی دوسرے چین-وسطی ایشیا سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے اپنے شمال مغربی پڑوسی ملک قازقستان گئے، وہاں چھ ممالک کے رہنماؤں نے دائمی اچھے تعلقات، دوستی اور تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کئے جس نے ہمیشہ کی دوستی کے اصول کو قانونی شکل دی۔ صدر شی نے اس معاہدے کو ’پڑوسیوں کے ساتھ چین کی سفارتی وابستگی میں ایک اہم اور پیش قدمی کا حامل اقدام‘ قرار دیا۔
سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میزبان قازق صدر قاسم جومارت توکائیف نے علاقائی تعاون آگے بڑھانے میں چین کے کردار کو سراہا۔
صدر توکائیف نے کہا کہ ہم نے اچھے ہمسایہ تعلقات، دوستی اور باہمی تعاون پر مبنی ایک بے مثال ماڈل تشکیل دیا ہے۔ یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ عظیم مدبر صدر شی جن پھنگ کی قیادت میں چین نے ایک قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔


