اقوام متحدہ (شِنہوا) چین نے غزہ میں جنگ بندی برقرار رکھنے اور دیرپا امن کے قیام جبکہ مغربی کنارے میں تشدد پر قابو پانے کی کوششیں کرنے پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو چھونگ نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران عالمی برادری کو فلسطینی عوام کو مزید نقصان سے بچانے، دو ریاستی حل کے سیاسی امکانات کو محفوظ رکھنے اور دیرپا امن کے حصول کے لئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔
فو چھونگ نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ حالیہ دنوں میں اسرائیل نے نہ صرف ’’بورڈ آف پیس‘‘ کی جانب سے پیش کئے گئے غزہ امن منصوبے کو کھلے عام مسترد کیا ہے بلکہ غزہ پر مہلک حملوں میں مزید اضافہ بھی کیا ہے جس سے وہاں کی نازک صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔
فو چھونگ کے مطابق حقائق نے یہ واضح کر دیا ہے کہ جنگ کو دانستہ طور پر طول دینے کی خطرناک کوشش غزہ میں دیرپا امن کے حصول کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ’’ہم متعلقہ فریقوں، بالخصوص اسرائیل پر زور دیتے ہیں کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے پر خلوص نیت سے اور مکمل طور پر عمل کریں اور دیرپا امن کی جانب مثبت اقدامات اٹھائیں۔‘‘
فو چھونگ نے ان ممالک سے بھی مطالبہ کیا جن کا متعلقہ فریقوں پر نمایاں اثر و رسوخ ہے کہ وہ غیر جانب دار موقف برقرار رکھیں اور امن عمل کو آگے بڑھانے کے لئے عملی اقدامات کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری بالخصوص سلامتی کونسل کو غزہ میں شہریوں کے تحفظ، انسانی امداد کی فراہمی اور اس سے بھی زیادہ سنگین انسانی بحران کو روکنے کے لئے کام کرنا چاہیے۔
فو چھونگ نے کہا کہ مغربی کنارے میں تشدد اور قبضے کی کارروائیاں روکی جانی چاہئیں اور وہاں کشیدگی کم کی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں مغربی کنارے میں آباد کاروں نے فلسطینی باشندوں کو کئی روز تک گھیرے میں رکھا تاکہ انہیں اپنے گھروں سے بے دخل کیا جا سکے اور ان کے گھر قبضے میں لئے جا سکیں۔ چین ایسے اقدامات کی سخت مذمت کرتا ہے۔
فو چھونگ نے کہا کہ مغربی کنارے کے عملی یا غیر اعلانیہ الحاق کی کوئی بھی کوشش ناقابل قبول ہے۔ چین اسرائیل پر زور دیتا ہے کہ وہ قابض طاقت کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور آباد کاروں کے تشدد پر قابو پائے، بجائے اس کے کہ خاموشی سے اس کی اجازت دے یا اس کی حوصلہ افزائی کرے۔


