بیجنگ (شِنہوا) چین میں غربت کے خاتمے کے نتائج کو مسلسل استحکام اور وسعت دی جا رہی ہے جبکہ دیہی افراد کی فی کس آمدنی میں بھی مستحکم اضافہ ہو رہا ہے۔
غربت کے خاتمے کی کامیابیوں کو مستحکم کرنے اور دیہی احیا کو آگے بڑھانے سے متعلق رپورٹ قومی عوامی کانگریس (این پی سی) کی قائمہ کمیٹی کے جاری اجلاس میں غور کے لئے پیش کی گئی جو چین کا اعلیٰ ترین قانون ساز ادارہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق غربت کی فہرست سے نکالے گئے اضلاع میں دیہی افراد کی فی کس قابل تصرف آمدنی 2020 میں 12 ہزار 588 یوآن (تقریباً ایک ہزار 855 امریکی ڈالر) تھی جو بڑھ کر 2025 میں 18 ہزار 627 یوآن ہو گئی جو سالانہ اوسطاً 8.2 فیصد اضافہ ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ دیہی بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات میں نمایاں بہتری آئی ہے جبکہ دیگر علاقوں کے مقابلے میں ترقی کا فرق بھی کم ہوا ہے۔
صنعتی اور روزگار سے متعلق امداد میں اضافہ کیا گیا ہے اور غربت سے نجات پانے والے افراد کے روزگار کو مستحکم رکھنے کے لئے بھی کوششیں کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایسے افراد کی تعداد جنہیں روزگار حاصل ہے 3 کروڑ 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ اب بھی بعض مستقل چیلنجز موجود ہیں جن میں دوبارہ غربت کا شکار ہونے کے طویل مدتی خطرات اور کم ترقی یافتہ علاقوں میں ترقی کی کمزور بنیادیں شامل ہیں۔


