ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): علی شاہد، پاکستانی طالبعلم
’’میں اس سرگرمی کو دیکھتے ہوئے بہت پُرجوش ہوں کیونکہ میں پہلی بار یہاں آیا ہوں۔ میں اس لئے بھی پرجوش ہوں کہ مجھےیہ دیکھنے کا موقع ملے گا کہ چین کے لوگ یہ تہوار کس طرح مناتے ہیں۔ اور ایسا پہلی بار ہواہے کہ میں یہاں اتنے زیادہ لوگوں کو دیکھ رہا ہوں۔ یہ میرے لئے واقعی بہت دلچسپ ہے کیونکہ میں پہلی بار یہاں آیا ہوں۔ یہ میرے لئے ایک نیا تجربہ ہے اور میں اس سے بہت لطف اندوز ہو رہا ہوں۔‘‘
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): ارسلان محمد، پاکستانی طالبعلم
’’میرا نام ارسلان محمد ہے۔ میرا تعلق پاکستان سے ہےاور میں شنگھائی جیاؤ ٹونگ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کا طالبعلم ہوں۔ یہاں آنے سے پہلے چین کے بارے میں میری معلومات وہی تھیں جو مجھے صرف سوشل میڈیا یا کتابوں کے ذریعے ملیں۔ لیکن یہاں تعلیم حاصل کرنے اور رہنے کے بعد مجھے ایک بالکل مختلف چین دیکھنے کو ملا۔ مجھے یہ ایک مکمل طور پر مختلف ملک نظر آیا۔ یہ ایسا ملک ہے جہاں جدید ٹیکنالوجی اور بھرپور ثقافت ایک ساتھ موجود ہیں۔ جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ یہاں کے لوگوں کی رحمدلی ہے۔ میں جب بھی کہیں جاتا ہوں تو لوگ سب سے پہلے مجھ سے یہی پوچھتے ہیں ’آپ کہاں سے ہیں؟‘ جب میں کہتا ہوں کہ میں پاکستان سے ہوں تو فوراً جواب ملتا ہے ’با ٹائی‘ یعنی ’ہم بہت اچھے دوست ہیں‘۔ یہاں کے لوگ بہت پُرتپاک اور رحمدل ہیں۔
چھوجنگ ایک بہت خوبصورت جگہ ہے۔ یہاں کا موسم گرم ہے اور بیرونی سرگرمیوں کے لئے نہایت موزوں ہے۔ خاص طور پر یہاں کا کھانا بہت لذیذ ہے۔ میں نے ’رائس برج نوڈلز‘ کھائے اور وہ بہت ہی مزیدار تھے۔
جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ روایتی چینی طب ہے۔ یہاں آنے سے پہلے میں نے اس سے متعلق کچھ تحقیق کی تھی۔ یوننان روایتی چینی طب میں استعمال ہونے والی مختلف اقسام کی جڑی بوٹیوں کے لئے مشہور ہے۔ میں اس بات پر حیران ہوں کہ روایتی چینی طب میں صرف بیماری کا علاج ہی نہیں ہوتا بلکہ یہ بیماریوں سے بچاؤ اور جسمانی توازن برقرار رکھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔
مجھے بہت خوشی ہے کہ مجھے یہاں آنے اور اس طرح کی سرگرمی میں شرکت کا موقع ملا۔ اسی طرح مستقبل میں بھی میں سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے لوگوں اور دوستوں کے ساتھ اپنے تجربات شیئر کروں گا۔ میں حقیقی چینی ثقافت کو دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔‘‘


