ہومتازہ ترینجاپانی ماہر نے ناگاساکی میوزیم پر نانجنگ قتل عام کی تاریخ مسخ...

جاپانی ماہر نے ناگاساکی میوزیم پر نانجنگ قتل عام کی تاریخ مسخ کرنے کا الزام لگا دیا

ناگاساکی ایٹم بم میوزیم جاپان کے ان چند عوامی اداروں میں شامل ہے جہاں نمائش کی تفصیلات میں اب بھی ’’نانجنگ قتلِ عام‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم میوزیم کی جانب سے 28 جولائی کو جاری کردہ نمائش کے نئے متن سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئندہ برس مارچ سے ’’نانجنگ قتلِ عام‘‘ کی اصطلاح تبدیل کرکے ’’نانجنگ واقعہ‘‘کر دی جائے گی۔

میوزیم کی نگرانی کرنے والی ناگاساکی میونسپل حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نظرثانی کا مقصد الفاظ کو جاپان کی سرکاری اصطلاحات اور رائج تعلیمی نصابی کتب سے ہم آہنگ کرناہے۔

رواں برس مارچ میں ناگاساکی شہر نے ایٹم بم میوزیم کی نمائشوں کے ترتیبِ نو کے منصوبے کو حتمی شکل دی۔

تیسرے نمائش ہال میں سب سے بڑی اور نمایاں تبدیلیاں کی جائیں گی۔ ’’چین جاپان جنگ اور بحرالکاہل جنگ‘‘ کے عنوان سے دیوار پر موجود مکمل تاریخی ٹائم لائن کو ہٹا دیا جائے گا اور اس کی جگہ دونوں عالمی جنگوں سے متعلق نمائشیں پیش کی جائیں گی۔

ناگاساکی میوزیم برائے انسانی حقوق و امن کے چیئرمین نوبورو ساکی یاما کو تاریخ کا ریکارڈ مسخ کرنے کی اس کوشش پر گہری تشویش ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (جاپانی): نوبورو ساکی یاما، چیئرمین، ناگاساکی میوزیم برائے انسانی حقوق و امن
’’مثال کے طور پر نانجنگ کو ہی لے لیجئے۔ جاپانی بحریہ کے طیاروں نے ناگاساکی کے اومورا ہوائی اڈےسے پرواز کی، سمندر عبور کیا اور نانجنگ پر بمباری کی۔ یہ بات ٹائم لائن میں واضح طور پر درج ہے۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 2 (جاپانی): نوبورو ساکی یاما، چیئرمین، ناگاساکی میوزیم برائے انسانی حقوق و امن
’’ٹائم لائن میں صرف یہ نہیں لکھا کہ ’نانجنگ پر قبضہ کیا گیا اور ایک قتلِ عام ہوا‘ جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا۔ اس میں میجی دور سے ایشیا میں جاپان کی جارحیت کی تاریخ کو ترتیب وار بیان کیا گیا ہے۔ اگرچہ اسے سمجھنا شاید آسان نہ ہو لیکن یہ تاریخ کی مکمل تصویر پیش کرتی ہے۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 3 (جاپانی): نوبورو ساکی یاما، چیئرمین، ناگاساکی میوزیم برائے انسانی حقوق و امن
’’یہ تبدیلی ایک سیاسی رجحان کا حصہ ہے جس کے تحت ماضی کی جنگوں میں جاپان کی جارحیت کی تاریخ کو مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 4 (جاپانی): نوبورو ساکی یاما، چیئرمین، ناگاساکی میوزیم برائے انسانی حقوق و امن
’’جن ممالک اور خطوں کے لوگوں کو جاپان کی جنگی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا وہ جانتے ہیں کہ جاپان کے مظالم کتنے سنگین تھے۔ بہت سے جاپانی لوگ اب تک اس تاریخ سے بے خبر ہیں۔ ایسے حالات میں مجھے نہیں لگتا کہ جاپان ان ممالک اور خطوں کے ساتھ حقیقی دوستی اور اعتماد قائم کر سکتا ہے۔‘‘

ناگاساکی، جاپان سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں