بیجنگ(شِنہوا)چین میں زیر تعلیم پاکستانی زرعی محقق محمد ذیشان مو لا بخش نے کہا ہے کہ چینی جامعات کا اعلیٰ تعلیمی معیار، وسیع تحقیقی سرگرمیاں، جدید تجربہ گاہیں اور حکومت کی جانب سے تعلیم و تحقیق کے لیے فراخ دلانہ وسائل کی فراہمی دنیا بھر کے نوجوانوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چین میں حاصل ہونے والی تعلیم، عملی تجربے اور جدید سائنسی تربیت نے انہیں زرعی تحقیق کے ذریعے پاکستان کی خدمت کے لیے نئی صلاحیتیں فراہم کی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وہ اکتوبر 2022 میں پی ایچ ڈی کے لیے چین پہنچے۔ چین کو اپنی تعلیمی منزل کے طور پر منتخب کرنے کی بنیادی وجہ یہاں کی جامعات کا مضبوط علمی مقام اور بڑے پیمانے پر ہونے والا معیاری تحقیقی کام تھا۔
ان کے مطابق چین کی حکومت تعلیم، سائنس اور تحقیق کو قومی ترقی کی بنیاد سمجھتے ہوئے جامعات اور تحقیقی اداروں کو بھرپور مالی وسائل فراہم کرتی ہے۔ اسی سرپرستی کے نتیجے میں محققین کو اپنے سائنسی تصورات کو عملی تجربات میں تبدیل کرنے کے وسیع مواقع حاصل ہوتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وقت گزرنے کے ساتھ وہ چینی کھانوں، معاشرتی روایات اور روزمرہ زندگی سے مکمل طور پر مانوس ہوگئے۔ آج وہ چینی کھانوں کے ذائقوں اور مختلف علاقوں کی ثقافتی خصوصیات سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق چین ایک عظیم ملک ہے، جہاں آرام دہ زندگی کی سہولتوں کے ساتھ نہایت قدیم، متنوع اور دلکش تہذیبی ورثہ موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 برس چین میں تعلیم حاصل کر نے اور زندگی گزارنے کے بعد اب وہ اسے اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے 2022 سے 2026 کے دوران ووہان میں واقع ہواژونگ زرعی جامعہ سے فصلوں کی جینیات اور افزائش کے شعبے میں ڈاکٹریٹ مکمل کی اور اب اسی علمی سفر کو آگے بڑھاتے ہوئے اعلیٰ تحقیقی کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اپنے تحقیقی شعبے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ان کی بنیادی توجہ سرسوں کی جینیاتی بہتری اور جدید افزائشی طریقوں پر مرکوز رہی۔ انہوں نے جین کی درست تدوین کی جدید تکنیک استعمال کرتے ہوئے سرسوں میں مختلف مفید جینیاتی تبدیلیاں پیدا کیں۔ اس تحقیق کا بنیادی مقصد فصلوں کی روایتی افزائش میں صرف ہونے والے طویل عرصے کو نمایاں طور پر کم کرنا تھا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ روایتی طریقوں سے کسی نئی اور بہتر فصل کی قسم تیار کرنے میں تقریباً 8 برس لگ سکتے ہیں، جبکہ جدید جینیاتی تدوین کی مدد سے مطلوبہ تحقیقی نتائج ایک سال کے اندر حاصل کرنے کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔ اس پیش رفت سے فصلوں کی بہتری، بہتر پیداوار، موسمی حالات سے مطابقت اور زرعی تحقیق کی رفتار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
محمد ذیشان کا کہنا تھا کہ اب ان کی توجہ اعلیٰ تحقیقی کام کے دوران نئے سائنسی منصوبوں، قدرتی سائنس سے متعلق تحقیقی معاونت اور فصلوں کی جدید افزائش پر مرکوز ہے۔ وہ چین میں حاصل ہونے والے علم، جدید تکنیکی مہارت اور تحقیقی تجربے کو پاکستان کی زرعی ترقی کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان زرعی تحقیق، معیاری بیجوں کی تیاری، موسمی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والی فصلوں، جدید تجربہ گاہوں اور نوجوان محققین کی تربیت کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ مشترکہ تحقیقی منصوبوں اور علمی تبادلوں کے ذریعے پاکستان اپنی زرعی پیداوار، غذائی تحفظ اور کسانوں کی خوش حالی میں نمایاں بہتری لاسکتا ہے۔


