ہوماہم ترینعمران خان شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل، ایک جھلک دیکھنے کیلئے عوام کا...

عمران خان شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل، ایک جھلک دیکھنے کیلئے عوام کا ہجوم

اسلام آباد (لارڈ میڈیا)، 21 اگست: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو سپریم کورٹ کے حکم پر جمعہ کی علی الصبح سخت سیکیورٹی میں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے رواں ہفتے حکومت کو ہدایت کی تھی کہ عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا جائے۔
سپریم کورٹ کا حکم عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے اور ان کی اہل خانہ سے ملاقات کی درخواستوں پر جاری کیا گیا۔ جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں قائم بینچ، جس میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے قرار دیا کہ ریاست پر زیر حراست افراد کی جان، صحت، وقار اور تحفظ یقینی بنانے کی آئینی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ قید کسی بھی قیدی کو انسانی سلوک اور ضروری طبی سہولیات کے حق سے محروم نہیں کرتی۔

شفا اسپتال کے اطراف سخت سیکیورٹی

عمران خان کی منتقلی سے قبل شفا انٹرنیشنل اسپتال اور اس کے اطراف سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے۔
اسلام آباد پولیس نے اسپتال اور اس سے ملحقہ شاہراہوں پر مختلف یونٹس کے سینکڑوں اہلکار تعینات کیے، جبکہ دہشت گردی کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے، امن و امان برقرار رکھنے اور ٹریفک کی روانی یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے۔

متعدد مقامات پر سیکیورٹی چوکیاں قائم کی گئیں، اسپتال کا سیکیورٹی آڈٹ بھی کیا گیا، جبکہ چیف ٹریفک آفیسر کو پارکنگ، ٹریفک مینجمنٹ اور لاوارث گاڑیوں و موٹر سائیکلوں کی تلاشی کے انتظامات کی ہدایت دی گئی۔

اڈیالہ جیل سے منتقلی کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے اسلام آباد پولیس اور ضلعی انتظامیہ پر مشتمل خصوصی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئیں۔

اسپتال کو سب جیل قرار دیے جانے کا امکان

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ڈاکٹروں نے عمران خان کو مزید علاج کے لیے اسپتال میں داخل رکھنے کی سفارش کی تو شفا انٹرنیشنل اسپتال کے متعلقہ کمرے، وارڈ یا منزل کو اسلام آباد کے چیف کمشنر کی جانب سے سب جیل قرار دیا جا سکتا ہے۔

ایسی صورت میں اڈیالہ جیل کا عملہ اسپتال میں تعینات ہوگا، جبکہ اسلام آباد پولیس اور رینجرز اسپتال کے اطراف سیکیورٹی اور امن و امان برقرار رکھیں گے۔

پی ٹی آئی کی کارکنوں سے اپیل

پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر عمران خان کی اسپتال منتقلی کی تصدیق کرتے ہوئے کارکنوں اور حامیوں سے اپیل کی کہ وہ اسپتال سے دور رہیں اور انتظامیہ سے تعاون کریں۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کارکنوں کے جذبات سے آگاہ ہے، تاہم عمران خان کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ضروری ہے کہ اسپتال کے اطراف غیر ضروری ہجوم نہ ہو۔

حکومتی نظرثانی درخواست

دوسری جانب وفاقی حکومت نے بدھ کے روز سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کرتے ہوئے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے عدالتی حکم کو واپس لینے کی استدعا کی۔

اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل نوید حیات ملک کی جانب سے چیف کمشنر اسلام آباد کی طرف سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عبوری حکم امتیازی نوعیت کا ہے اور عدالت نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا ہے۔

عمران خان کے طبی علاج کے معاملے پر حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔ پی ٹی آئی اور عمران خان کے اہل خانہ مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ سابق وزیراعظم کو مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں اور ان کے ذاتی معالجین تک رسائی محدود رکھی گئی ہے، جبکہ حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔

صحت سے متعلق خدشات

عمران خان 5 اگست 2023 سے قید ہیں اور 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس، المعروف القادر ٹرسٹ کیس، میں 14 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

ان کی قید کے دوران صحت سے متعلق خدشات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جبکہ پی ٹی آئی اور ان کے اہل خانہ متعدد بار انہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

رواں سال جنوری میں عمران خان کی دائیں آنکھ میں سنٹرل ریٹینل وین اوکلوژن (CRVO) کی تشخیص سامنے آئی تھی، جس کے بعد انہیں حکومتی سطح پر طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔

اس ہفتے عمران خان کی بہن نورین نیازی کو بھی رواں سال پہلی مرتبہ اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کی اجازت دی گئی۔ جیل ذرائع کے مطابق ملاقات میں عمران خان کی صحت سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ نورین نیازی نے انہیں سپریم کورٹ کی جانب سے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں طبی معائنے کے حکم سے بھی آگاہ کیا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں