بیجنگ (شِنہوا) بیجنگ میں منعقدہ ایک فورم میں ماہرین نے کہا ہے کہ چین اور افریقی ممالک مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے اطلاق اور اس کی نظم و نسق کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنا رہے ہیں تاکہ تکنیکی اختراع کے ذریعے میڈیا کے شعبے میں باہمی پیش رفت کو فروغ دیا جا سکے۔
افریقی یونین آف براڈکاسٹنگ (اے یو بی) کے ڈائریکٹر جنرل گریگوئر نجاکا نے ساتویں چین-افریقہ میڈیا تعاون فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "آج نشریاتی صنعت ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تبدیلی، نئے مواد کے پلیٹ فارمز اور ناظرین کے رویوں میں تبدیلیاں بنیادی طور پر اس بات کو نئی شکل دے رہی ہیں کہ پروگرام اور دیگر مواد کیسے تیار، تقسیم اور استعمال کئے جاتے ہیں۔”
نجاکا نے مزید کہا کہ اس اہم مرحلے پر میڈیا میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے شعبے میں چین اور افریقہ کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون حوصلہ افزائی کا ایک مضبوط ذریعہ ثابت ہوا ہے۔
سیرا لیون کے وزیر اطلاعات و شہری تعلیم چیرنور عبداللہ باہ نے کہا کہ ان کا ملک چین کے ساتھ میڈیا ٹیکنالوجی کے شعبے میں مزید تعاون دیکھنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "چین نے گزشتہ برسوں کے دوران شاندار مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیت حاصل کی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "یہ صرف چینی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کی بات نہیں ہے، بلکہ ہمیں ایسے اے آئی ماڈلز اور ٹیکنالوجیز کی تیاری کے عمل کا حصہ بننا ہے تاکہ یہ ماڈلز ہماری ضروریات کے مطابق کام کر سکیں۔”
جنوبی افریقی نشریاتی کارپوریشن کی چیف ایگزیکٹو آفیسر نومسا لبوگانگ چھبیلی نے میڈیا کی ترقی میں مصنوعی ذہانت کے مثبت کردار کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی زبان کی رکاوٹوں پر قابو پانے، وسیع تر ناظرین تک میڈیا کی رسائی بڑھانے اور متعدد پلیٹ فارمز پر تقسیم کے لئے مواد کی تیاری میں مدد دیتی ہے۔


