چھانگ شا (شِنہوا) چین کے وسطی صوبے ہونان کے دارالحکومت چھانگ شا میں رنگ برنگی چمکدار برقی روشنیوں کی چکاچوند اور فضا میں مہکتے ہلکے پھلکے کھانوں کی اشتہا انگیز خوشبو کے درمیان ایک گھنٹہ طویل انتظار کے بعد 22 سالہ فانگ تیان یو بالآخر شہر کے مرکز میں واقع سنیک کنگڈم میں داخل ہو گیا۔
اسے انتظار کا پچھتاوا تھا اور نہ ہی روایتی پسندیدہ اشیاء پر اکتفا کرنے کی ضرورت تھی۔ فانگ نے ایک قطار سے دوسری قطار تک چہل قدمی کی، رک کر ان سنیکس کو غور سے دیکھا جو پہلے کبھی دیکھے نہیں تھے، سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا کہ ان میں سے کون سا آزمانے کے لائق ہو سکتا ہے۔
فانگ نے کہا کہ یہ کافی انوکھا لگتا ہے اور یہاں خریداری کرنا کسی خزانے کی تلاش جیسا ہے۔
دریافت کا یہی تجسس سیاحوں کو اس وسیع و عریض سپر مارکیٹ کی طرف کھینچتا ہے جہاں 13 ہزار مربع میٹر سے زائد رقبے پر چین اور دنیا بھر کے سنیکس پھیلے ہوئے ہیں۔ یہاں اتنے زیادہ متبادل ہیں کہ اگر آپ روزانہ صرف ایک سنیک چکھیں تو سب کو آزمانے میں تقریباً ایک صدی درکار ہو گی۔
یہ سٹور نوجوان صارفین کی دلچسپیوں کو ذہن میں رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے جس میں رنگ برنگی آرائش اور تصاویر بنانے کے لئے بہترین جگہیں شامل ہیں جو سنیک خریدنے کے مختصر وقفے کو ایسی تفریح بنا دیتی ہیں کہ یہاں رکنے اور آن لائن شیئر کرنے کو دل چاہتا ہے۔
سپر مارکیٹ چلانے والی بزی منگ گروپ کمپنی لمیٹڈ کے لیانگ شیاؤ کا کہنا تھا کہ لوگ صرف خریداری پر اکتفا نہیں کرنا چاہتے بلکہ ایک پرلطف تجربہ چاہتے ہیں۔
یہ سوچ صرف دکان کے کاؤنٹر تک محدود نہیں رہتی۔ چھانگ شا شہر سے تقریباً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پڑوسی شہر شیانگ تان میں وان لو یوتھ وارف پر یہ ایک مختلف روپ اختیار کر لیتی ہے جہاں شپنگ کنٹینرز کی قطاروں کو ایک ایسی شاندار مارکیٹ میں بدلا گیا ہے جہاں نوجوان کھانے پینے، خریداری، سیر و تفریح اور ٹھہرنے کے لئے آتے ہیں۔
یہ تصور عملی اور ثقافتی دونوں مقاصد پورے کرتا ہے۔ یہ کنٹینرز منگ دور (1368۔1644) میں بطور گھاٹ اس مقام کے تاریخی پس منظر کی عکاسی کرتے ہیں۔
شیانگ تان مینگو کلچرل ٹورزم کمپنی لمیٹڈ کے جنرل منیجر دوان کے کے کا کہنا تھا کہ چین میں پہلے ہی لاتعداد قدیم قصبے اور گلیاں موجود ہیں۔ مزید ایسا قصبہ بسانے کے بجائے ہم نے نوجوانوں کو پرانے گھاٹ کے نئے تجربے سے روشناس کرانے کے لئے شپنگ کنٹینرز کا انتخاب کیا۔

چین کے وسطی صوبے ہونان کے شہر شیانگ تان میں دریائے شیانگ جیانگ کے مغربی کنارے پر ایک لڑکا جھولے سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔ (شِنہوا)
سنیک کنگڈم اور وان لو مل کر چین کی صارف منڈی میں ایک وسیع تر تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں جہاں لوگوں کا رجحان محض اشیاء خریدنے سے تبدیل ہو کر جذباتی قدر اور منفرد تجربات کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 2026 کی پہلی ششماہی میں چین کی اشیاء اور خدمات کی کل پرچون فروخت میں سالانہ بنیاد پر 2.7 فیصد اضافہ ہوا۔ خدمات کی پرچون فروخت میں 5.3 فیصد اضافہ ہوا جو اشیاء کی پرچون فروخت میں 1.1 فیصد اضافے سے زیادہ ہے جبکہ ثقافتی، کھیلوں اور تفریحی خدمات میں خاص طور پر بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔
چائنیز اکیڈمی آف میکرو اکنامک ریسرچ کے سربراہ ہوانگ ہان چھوآن نے کہا کہ اس مدت کے دوران حتمی کھپت کے اخراجات نے سرمائے کی تشکیل اور خالص برآمدات کے مقابلے میں اقتصادی ترقی میں زیادہ حصہ ڈالا۔ خدمات کی کھپت میں نسبتاً تیزی سے اضافہ ہوا، کھپت کے ڈھانچے میں مسلسل بہتری آتی گئی اور ترقی کے نئے محرکات نے زور پکڑا۔


