چین کی اینی میٹڈ خیالی اور مزاحیہ فلم ’’آل وشز کم ٹرو‘‘ کا شمالی امریکہ میں پریمیئر جمعرات کی شب لاس اینجلس میں ہوا۔ فلم جمعہ کے روز امریکہ اور کینیڈا کے سنیما گھروں میں نمائش کے لئے پیش کی گئی۔
یہ فلم آٹھ لافانی ہستیوں کے سمندر پار کرنے کی کلاسیکی تاؤ مت کی داستان سے ماخوذ ہے۔ یہ رواں موسمِ گرما میں چین میں باکس آفس پر کامیاب فلم بن کر ابھری اور اسے ناقدین کی پذیرائی کے ساتھ ساتھ تجارتی کامیابی بھی حاصل ہوئی۔ چینی فلم ٹکٹنگ اور فلمی ڈیٹا پلیٹ فارم ماؤیان کے مطابق جمعہکے روز تک چین کے مقامی باکس آفس پر فلم 1.51 ارب یوآن (22 کروڑ 40 لاکھ امریکی ڈالر) سے زیادہ کا کاروبار کر چکی تھی۔
فلم کی تحریر اور ہدایت کاری ماؤ ژینگ یانگ نے کی جبکہ وائس ڈائریکشن چھن ہاؤ نے کی ہےجن کے کریڈٹ میں ’’نی جا‘‘ اور ’’نی جا 2‘‘ جیسی فلمیں شامل ہیں۔
’’آل وشز کم ٹرو‘‘ کو چینی فلم بینوں کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی ہے۔ ماؤیان پر 2 لاکھ 41 ہزار سے زائد ناظرین نے اسے 10 میں سے 9.7 کی ریٹنگ دی ہے۔
نغمہ نگار اور مواد کی تخلیق کار ہنّا ایوسن نے فلم کے پریمیئر میں شرکت کے بعد اسے 10 میں سے پورے 10 نمبر دئیے۔ انہوں نے فلم کو لوگوں کے متحد ہونے کی ایک عالمگیر کہانی قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف کی۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): ہنّا ایویسن، نغمہ نگار اور مواد کی تخلیق کار
’’اینی میشن بہت دلکش تھی۔ یہ ایک خوبصورت کہانی تھی۔ اس میں بہت سے اتار چڑھاؤ تھے اور فلم کی کہانی واقعی شاندار تھی۔ مجھے کبھی اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ میں پوری فلم کے دوران اپنی نشست پر بیٹھی مسلسل تجسس کی کیفیت میں رہی۔ واقعی یہ بہت زبردست فلم ہے۔ 10 میں سے 10۔‘‘
ہالی ووڈ اداکار اور پروڈیوسر جان کائل سٹن نے بتایا کہ ’’میں عام طور پر طویل فلموں کا مداح نہیں ہوں لیکن اس پوری فلم کے دوران میری دلچسپی برقرار رہی۔ اس میں مشرقی دیومالائی داستانوں کا بہت گہرا رنگ نظر آیا۔‘‘
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): جان کائل سٹن، ہالی ووڈ اداکار اور پروڈیوسر
’’میرا خیال ہے کہ اس طرح کی فلمیں امریکی ناظرین کو اپنی جانب متوجہ کریں گی اور انہیں چینی ثقافت کے بارے میں مزید جاننے کی ترغیب دیں گی۔ ذاتی طور پر مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میری سوچ میں وسعت آئی ہے اور مجھے کچھ نیا سیکھنے کا موقع ملا ہے۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ میں جب فلم دیکھنے جاتا ہوں تو ضروری نہیں کہ میں کچھ سیکھنے جا رہا ہوں۔ یہ میرے لئے ایک اضافی فائدہ تھا۔ بہرحال میں فلم سے خوب محظوظ بھی ہوا۔ فلم کی کہانی لکھنے والے فنکار، اینیمیشن کا انداز اور صوتی اداکار سب ہی بہترین تھے۔ اس فلم نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ میں اس کے تمام تخلیق کاروں، فلم پر کام کرنے والے ہر فرد اور ہدایت کار کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے واقعی شاندار کام کیا۔‘‘
’’آل وشز کم ٹرو‘‘ کو سی ایم سی پکچرز کی جانب سے مینڈارن زبان میں انگریزی سب ٹائٹلز کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔ فلم کی نمائش لاس اینجلس، سان فرانسسکو، نیویارک، لاس ویگاس، سیاٹل، شکاگو، ڈلاس، اٹلانٹا، ٹورنٹو، وینکوور اور شمالی امریکہ کے درجنوں دیگر شہروں کے 100 سے زائد منتخب سنیما گھروں میں ہو گی۔ ان شہروں میں چینی برادریوں کی بڑی تعداد آباد ہے۔
لاس اینجلس، امریکہ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


