نیویارک (لارڈ میڈیا) نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ بظاہر بھولی ہوئی یادیں دماغ سے مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں بلکہ خاموش حالت میں موجود رہتی ہیں جنہیں مناسب ماحول یا یاددہانی کے ذریعے دوبارہ فعال کیا جا سکتا ہے۔
سائنس دانوں نے پھلوں کی مکھیوں پر تجربات کر کے دیکھا کہ جس ماحول میں کوئی یاد تشکیل پاتی ہے، اسی سے ملتا جلتا ماحول فراہم کرنے سے وہ یاد دوبارہ ذہن میں آ سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی یادداشت ایک پیچیدہ نظام ہے، کچھ یادیں وقت کے ساتھ کمزور ہو جاتی ہیں جبکہ بعض بظاہر غائب ہونے کے باوجود مخصوص اشاروں سے واپس آ سکتی ہیں۔
محققین کے مطابق دماغ حقیقی یادوں کے ساتھ جھوٹی یادیں بھی تشکیل دیتا ہے، جسے ابھی پوری طرح سمجھا نہیں جا سکا۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ یادوں کی بازیابی اور غلط یادوں کی تشکیل کے عصبی عمل سائنس کے لیے اہم سوال ہیں۔ یہ تحقیق یادوں کی محفوظگی اور فعال ہونے میں ماحول کے کردار کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔


