کینیڈا (لارڈ میڈیا): افغان طالبان کے اقتدار میں واپسی کے پانچ سال مکمل ہونے پر کینیڈا، جرمنی، نیدرلینڈز سمیت مختلف ممالک کے 24 شہروں میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ مظاہرین نے طالبان کے خلاف نعرے بازی کی اور مختلف مطالبات پیش کیے۔
جرمنی کے شہروں بون، میونخ، اسٹٹ گارٹ، ہیمبرگ، برلن، کیل، فرینکفرٹ، کولون اور ڈسلڈورف میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے جبکہ سوئٹزرلینڈ، نیدرلینڈز، فن لینڈ، ناروے، آسٹریا، سویڈن، اسپین، پاکستان، کینیڈا اور امریکا میں بھی افغان باشندوں نے مظاہرے کیے۔
افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے طالبان رجیم کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی مخالفت اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ کینیڈا کے شہر ٹورنٹو کے کوئینز پارک میں افغان مہاجرین کا بڑا احتجاجی مظاہرہ ہوا۔
مظاہرین نے صنفی امتیاز کے خاتمے، آزادیٔ اظہار و صحافت کے تحفظ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر طالبان رجیم کو جوابدہ بنانے کا مطالبہ کیا۔ ایمسٹرڈیم میں مظاہرین نے نیدرلینڈز اور یورپی یونین سے طالبان کو تسلیم نہ کرنے اور افغان خواتین کے حقوق کو ترجیح دینے کی اپیل کی۔
جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے افغان باشندوں نے احتجاجی ریلی نکالی اور طالبان رجیم کیخلاف شدید نعرے بازی کی۔ جرمنی کے شہروں اسٹٹگارٹ اور ہیمبرگ میں بھی مظاہرین نے ’’روٹی، کام، آزادی‘‘ کے نعرے لگائے اور جرمن حکومت سے طالبان رجیم کو جوابدہ بنانے کا مطالبہ کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں طالبان رجیم کیخلاف بڑھتے احتجاج اور مظاہرے ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی سطح پر طالبان کو قبولیت یا کسی بھی قسم کی نارملائزیشن حاصل نہیں ہوگی، بیرونِ افغانستان بڑھتی احتجاجی لہر اور ملک کے اندر مزاحمتی تحریکوں میں تیزی طالبان رجیم کیخلاف عوامی ردِعمل میں اضافے کی علامت ہے۔


