ہومتازہ ترینایران کے خلاف جنگی جنون امریکہ کے لئے درد سر بن گیا

ایران کے خلاف جنگی جنون امریکہ کے لئے درد سر بن گیا

واشنگٹن (شِنہوا) ایران جنگ کے تقریباً 6 ماہ بعد طیارہ بردار جہاز "یو ایس ایس ابراہم لنکن” اس بات کی ایک واضح علامت بن چکا ہے کہ کس طرح واشنگٹن کی جانب سے فوجی حل کا تعاقب اب خود اسی کے لئے درد سر بنتا جا رہا ہے۔

جیسے جیسے یہ تنازع طوالت اختیار کر رہا ہے، مہینوں کی طویل تعیناتی نے امریکی فوجیوں کو تھکا کر رکھ دیا ہے، فوجی وسائل پر شدید دباؤ ڈالا ہے اور ایک ایسے تنازع کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو بے نقاب کر دیا ہے جسے واشنگٹن ابھی تک کسی حتمی انجام تک نہیں پہنچا سکا ہے۔

امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے طیارہ بردار جہاز کے دورے میں عملے کو ان کی "استقامت” کی تعریف کرتے ہوئے تسلی دینے کی کوشش کی۔ ان کے یہ بیانات ان میڈیا رپورٹس کے بعد سامنے آئے ہیں جن میں جہاز پر بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا، جس کی تعیناتی ایران کے ساتھ جنگ کے باعث مہینوں کے لئے بڑھا دی گئی ہے۔

یو ایس ایس ابراہم لنکن گزشتہ سال نومبر میں اپنے ملکی بندرگاہ سان ڈیاگو سے روانہ ہوا تھا اور بعد میں ایران کے ساتھ جنگ میں امریکی فوجی کارروائیوں کے لئے اسے مشرق وسطیٰ کی طرف موڑ دیا گیا تھا۔

ڈیموکریٹک سینیٹر رچرڈ بلومنتھل کے مطابق جہاز پر سوار تقریباً 5ہزار بحری اہلکاروں اور میرینز کے ساتھ یہ طیارہ بردار جہاز ساحل پر رکے بغیر مسلسل 200 سے زائد دن سمندر میں گزار چکا ہے، جو کہ جدید دور میں مسلسل سمندر میں رہنے کا ایک نیا ریکارڈ ہے۔

اس طویل تعیناتی نے طیارہ بردار جہاز پر زندگی کی سہولیات کو سخت متاثر کیا ہے۔ ‘سٹارز اینڈ سٹرائپس’ نے سمندر میں مہینوں گزارنے کے بعد خوراک اور پانی کی قلت، ڈاک کی ترسیل میں خلل اور باقاعدگی سے ساحلی وقفوں کی عدم دستیابی سے متعلق شکایات کو شائع کیا ہے۔

اخبار نے بتایا کہ اہل خانہ نے براہ راست بحریہ کے قائم مقام سیکرٹری کے سامنے بحری اہلکاروں کی شدید تھکاوٹ اور ذہنی صحت کے بارے میں تشویش ظاہر کی تھی۔ اخبار نے ایک فوجی کی اہلیہ کے حوالے سے بتایا کہ اس کے شوہر نے اس سے کہا تھا کہ اسے خدشہ ہے کہ وہ اگلی صبح نہ جاگے۔

تاہم امریکی انتظامیہ نے ان بڑھتی ہوئی تشویشناک خبروں کی اہمیت کو کم دکھانے کی کوشش کی ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں