ہومتازہ ترینکوپ 17 کا چائنہ کارنر صحرائی پھیلاؤ کی روک تھام میں ...

کوپ 17 کا چائنہ کارنر صحرائی پھیلاؤ کی روک تھام میں چین کی کامیابیوں کا عکاس

اولان باتور (شِنہوا) منگولیا کے دارالحکومت اولان باتور میں صحرائی پھیلاؤ کی روک تھام متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن (یو این سی سی ڈی) کے فریقین کی 17ویں کانفرنس (کوپ 17) کے بلیو زون میں چائنہ کارنر کے عنوان سے نمائش کا افتتاح کیا گیا جس میں صحرائی پھیلاؤ کی روک تھام میں چین کے تجربات اور کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔

کوپ 17 کے مجموعی موضوع "زمین کی بحالی، امید کی بحالی” کے تحت منعقدہ نمائش تین جہتوں پر مشتمل ہے اور صحرائی پھیلاؤ کے خلاف چین کی کاوشوں اور کامیابیوں کو پیش کرتی ہے۔

چین نے 1978 سے اب تک کئی بڑے ماحولیاتی منصوبے شروع کئے ہیں جن میں تھری نارتھ شیلٹر بیلٹ فاریسٹ پروگرام (ٹی ایس ایف پی) بھی شامل ہے، جسے دنیا کا سب سے بڑا شجرکاری پروگرام مانا جاتا ہے۔ اس کا آغاز 1978 میں ہوا اور 2050 تک جاری رہے گا، اس کے آٹھ مراحل ہیں اور یہ اس وقت چھٹے مرحلے میں ہے۔

ٹی ایس ایف پی پر عملدرآمد شروع ہونے کے بعد سے اس پروجیکٹ میں آنے والے رقبے میں جنگلات اور چراگاہوں کا احاطہ 40.76 فیصد تک پہنچ چکا ہے جبکہ صحرا زدہ زمین کی بحالی کی شرح 67.82 فیصد ہو گئی ہے۔

14 ویں 5 سالہ منصوبے کے دورانیے سے اب تک چین نے تقریباً ایک کروڑ 53 لاکھ 30 ہزار ہیکٹر متاثرہ چراگاہوں کی بحالی اور مرمت کا کام مکمل کیا ہے۔

علاوہ ازیں چراگاہوں میں چرنے پر پابندی اور باڑ لگانے جیسے اقدامات کے ذریعے تقریباً 8 کروڑ 6 لاکھ 60 ہزار ہیکٹر چراگاہوں کو بحال کیا گیا جس سے تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ کسانوں اور گلہ بانوں کو فائدہ پہنچا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں