قاہرہ (شِنہوا) چینی اور مصری کمپنیوں نے قاہرہ میں منعقدہ "چین کو برآمدات” کے عنوان سے تجارتی رابطہ اجلاس کے دوران تقریباً 17 کروڑ امریکی ڈالر مالیت کے متعدد تجارتی معاہدوں پر دستخط کئے۔
مصر کی وزارت سرمایہ کاری و غیر ملکی تجارت سے وابستہ مصری کمرشل سروس کے مجاز وزیر اور ایشیا ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر سید فواد نے کہا کہ مصر اس تقریب کے ذریعے چین کے ساتھ طویل مدتی تعاون، اقتصادی و تجارتی روابط اور دوطرفہ تجارت کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔
مصری ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد قاسم نے کہا کہ ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں تجارتی پابندیاں بڑھ رہی ہیں، چین نے افریقی ممالک کے لئے اپنی منڈی کھلی رکھنے کا اہم فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے مصری برآمد کنندگان کو چین کی بڑی منڈی میں اپنی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے کا حقیقی موقع ملے گا۔
چین کی وزارت تجارت کے محکمہ بیرونی تجارت کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل چھانگ ہوئی نے کہا کہ "چین کو برآمدات” کے عنوان سے تجارتی رابطہ اجلاسوں کا مصر میں انعقاد افریقہ میں اس سلسلے کی پہلی سرگرمی ہے۔
چھانگ ہوئی نے کہا کہ ان اجلاسوں کا انعقاد چین کی جانب سے اعلیٰ معیار کی عالمی تجارت کو فروغ دینے اور متوازن تجارت کو آگے بڑھانے کی کوششوں کی ایک مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام چین کے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ ترقی کے ثمرات بانٹنے اور کثیرجہتی تجارتی نظام اور آزاد تجارت کے مضبوط حمایت کا بھی عکاس ہے۔
مصر میں چینی سفارتخانے کے منسٹر کونسلر ژاؤ لیو چِھنگ نے کہا کہ چین اور مصر کے تعلقات اس وقت تاریخ کی بہترین سطح پر ہیں جبکہ عملی اقتصادی اور تجارتی تعاون دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
چین نے رواں سال یکم مئی سے ان تمام 53 افریقی ممالک سے جن کے ساتھ اس کے سفارتی تعلقات ہیں، درآمدات پر زیرو ٹیرف پالیسی نافذ کی ہے۔ اس اقدام کا مصر سمیت کئی افریقی ممالک نے خیرمقدم کیا ہے۔
ژاؤ نے کہا کہ اس پالیسی کی بدولت رواں سال کی پہلی ششماہی میں مصر کی چین کو برآمدات میں 67.5 فیصد اضافہ ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں مزید مصری مصنوعات کو چینی مارکیٹ تک رسائی ملنے کی توقع ہے۔
یہ تجارتی اجلاس چین کی وزارت تجارت کے تجارتی ترقیاتی بیورو اور مصری ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے مشترکہ طور پر منعقد کیا۔ اجلاس میں دونوں ممالک کے تقریباً 170 کاروباری افراد اور کمپنیوں کے نمائندوں کے علاوہ تجارتی حکام اور سفارت کاروں نے شرکت کی۔


