بیجنگ (شِنہوا) بیرونی غیر یقینی صورتحال اور شدید موسمی حالات کے باوجود جولائی میں چین کی معیشت مجموعی طور پر مستحکم رہی جبکہ ترقی کے نئے محرکات نے رفتار پکڑی اور اقتصادی سرگرمیوں میں ادارہ جاتی بہتری کا سلسلہ جاری رہنے کے آثار ظاہر ہوئے۔
چین کے قومی ادارہ شماریات (این بی ایس) کے ترجمان فو لنگ ہوئی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ فعال میکرو پالیسیوں نے بیرونی اور اندرونی دباؤ کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دی جس کے باعث ملکی معیشت نے "لچک اور توانائی” کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے جولائی میں معیشت کو درپیش اہم چیلنجز میں مسلسل جغرافیائی سیاسی تنازعات، عالمی توانائی کی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال اور شدید موسمی حالات کا ذکر کیا۔
جولائی میں صنعتی پیداوار میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 4.5 فیصد اضافہ ہوا جو جون کے مقابلے میں 0.8 فیصد پوائنٹس کم تھا۔ فو نے اس سست روی کو مختصر مدتی ملکی اور بیرونی عوامل سے منسوب کیا تاہم انہوں نے کہا کہ پہلے 7 ماہ کے دوران بڑے پیداواری اشاریے مجموعی طور پر مستحکم رہے۔
فو نے بتایا کہ اس عرصے کے دوران صنعتی پیداوار میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 5.3 فیصد اضافہ ہوا جو سال کی پہلی ششماہی کی رفتار کے تقریباً مطابق تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "مجموعی طور پر پیداوار میں مستحکم اضافے کا رجحان تبدیل نہیں ہوا۔”
آلات سازی کا شعبہ صنعتی نمو کا ایک اہم ستون بنا رہا۔ کمپیوٹر، مواصلاتی آلات اور دیگر الیکٹرانک آلات، خصوصی آلات اور برقی مشینری کی ویلیو ایڈڈ پیداوار میں گزشتہ سال کے مقابلے میں بالترتیب 19.1 فیصد، 12.6 فیصد اور 8.8 فیصد کا اضافہ ہوا۔
فو نے کہا کہ ان تینوں شعبوں میں نمو جون کے مقابلے میں تیز ہوئی جو "اختراع پر مبنی مضبوط تر نمو اور صنعتی ترقی کے مسلسل عمل” کی عکاسی کرتی ہے۔
فو کے مطابق اختراع نمو کے نئے محرکات پیدا کرنے اور اقتصادی ڈھانچے کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اور یہ رجحان جولائی میں بھی جاری رہا۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق پہلے 7 ماہ کے دوران بڑے صنعتی اداروں کی پیداوار میں نمو کے 50.9 فیصد حصے کا تعلق نمو کے نئے محرکات سے تھا جو پہلی ششماہی کے مقابلے میں 3 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔


