بیجنگ (شِنہوا) چینی پولیس نے منگل کے روز کاروباری اداروں کے قانونی حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لئے آن لائن افواہوں کے خلاف کارروائی کے دوران مصنوعی ذہانت سے متعلق غلط معلومات اور گاڑیوں کے حادثات سے متعلق من گھڑت دعووں کو بھی ہدف بنایا۔
وزارت عوامی سلامتی کے سائبر سکیورٹی شعبے کی جانب سے جاری کئے گئے 14 مقدمات میں سے کئی میں مصنوعی ذہانت یا تو جعلی مواد تیار کرنے کے لئے استعمال کی گئی یا خود جھوٹی معلومات کا موضوع تھی۔
پولیس کے مطابق چین کے وسطی صوبے ہینان کے شہر شانگ چھیو میں شوئے نامی ایک شخص نے اے آئی ٹولز استعمال کرتے ہوئے کار حادثے کی ایک جعلی ویڈیو بنائی اور اسے مقبول ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ڈوئین پر پوسٹ کیا۔
ایک اور کیس میں چین کے جنوبی گوانگ شی ژوانگ خودمختار علاقے کے شہر حہ چھی میں یو نامی ایک شخص نے اے آئی ٹولز کے ذریعے ایسی جعلی ویڈیوز تیار کیں جن میں ایک معروف برینڈ کی گاڑی اور ایک کمپنی کے سربراہ کے ساتھ پیش آنے والے کار حادثے کو دکھایا گیا تھا۔ اس کا مقصد زیادہ فالوورز حاصل کرنا تھا۔
تیسرے کیس میں چین کے مشرقی صوبے جیانگسو کے شہر یانگ ژو کی پولیس نے بتایا کہ ایک شخص نے یہ جھوٹا دعویٰ گھڑا کہ ایک کمپنی کی جانب سے جاری کی گئی ڈرفٹنگ کی ویڈیو اے آئی کے ذریعے تیار کی گئی تھی اور خودکار ڈرائیونگ کرنے والی ایک گاڑی نے صفائی کے ایک کارکن کو ٹکر مار دی تھی۔
پولیس کے مطابق ان کارروائیوں سے متعلقہ کمپنیوں اور ان کی مصنوعات کی ساکھ کو نقصان پہنچا اور ان کے صارفین میں تشویش پیدا ہوئی۔


