ماسکو (شِنہوا) روسی وزارت خارجہ کے یورپی امور کے شعبے کے ڈائریکٹر ولادیسلاو ماسلین نیکوف نے کہا ہے کہ نیٹو آرکٹک کے علاقے کو عسکری شکل دے رہا ہے اور روس کی شمالی سرحدوں کے قریب اپنی جارحانہ صلاحیت کو مضبوط بنا رہا ہے۔
ماسلین نیکوف نے یہ بات روس کے شہر ارخانگلسک میں چوتھے آرکٹک ریجنز فورم کے دوران کہی۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں باقاعدگی سے بڑے پیمانے پر فوجی مشقیں کی جاتی ہیں جن کا مقصد دیگر امور کے علاوہ جارحانہ کارروائیوں کے مختلف منظرناموں کی مشق کرنا ہے، جبکہ اتحاد کے غیر آرکٹک رکن ممالک بھی ان سرگرمیوں میں فعال طور پر حصہ لے رہے ہیں۔
ماسلین نیکوف نے مزید کہا کہ روس کی شرکت کے بغیر آرکٹک سے متعلق مسائل حل کرنے کی کوئی بھی کوشش بے سود ہے اور ماسکو علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
فروری میں نیٹو نے ’’آرکٹک سینٹری‘‘ کے نام سے ایک کثیرالجہتی فوجی سرگرمی شروع کی تھی، جس کا مقصد آرکٹک اور انتہائی شمالی خطے میں نگرانی، فوجی دستوں اور مشقوں کے درمیان رابطہ کاری کرنا ہے۔
اس سے قبل نیٹو نے اپنی جوائنٹ فورس کمانڈ نورفوک کے دائرہ اختیار میں ڈنمارک، فن لینڈ اور سویڈن کو بھی شامل کیا تھا، جو آرکٹک اور شمالی بحر اوقیانوس میں سلامتی پر اتحاد کی بڑھتی ہوئی توجہ کی عکاسی کرتا ہے۔
روسی نائب وزیر خارجہ الیگزینڈر گروشکو نے بھی کہا ہے کہ آرکٹک کو کم کشیدگی والا خطہ برقرار رہنا چاہیے اور روس اس مقصد کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔
ایسٹرن اسٹیٹ پلاننگ سنٹر کے ڈائریکٹر میخائل کزنیتسوف نے کہا کہ 2050 تک روس کے آرکٹک خطے کی ترقی کی حکمت عملی کی منظوری موسم گرما کے اختتام تک متوقع ہے۔


