ہوماہم ترینپاکستانی کینسر کی مریضہ کوچینی طبی منصوبے سے نئی زندگی مل گئی

پاکستانی کینسر کی مریضہ کوچینی طبی منصوبے سے نئی زندگی مل گئی

شنگھائی(شِنہوا) فودان یونیورسٹی شنگھائی کینسر سینٹر میں زیر علاج پاکستانی کینسر کی مریضہ محترمہ ایم نے اپنے معالج پروفیسر وو شیاؤہوا کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما اور اور شکریہ ادا کیا، کیونکہ چین میں بیضہ دانی کے کینسر کی تشخیص اور علاج کے منصوبے نے انہیں زندگی کی امید دی۔

ایک سال قبل 60 سالہ خاتون ایم کو مسلسل پیٹ پھولنے، قے، کھانے اور رفع حاجت میں دشواری کی شکایات تھیں۔ انہوں نے پاکستان کے ایک مقامی ہسپتال میں طبی معائنہ کرایا، جہاں بعد ازاں ان میں بیضہ دانی کے آخری مرحلے کے کینسر کی تشخیص ہوئی۔

مقامی ڈاکٹروں نے محترمہ ایم کے لیے کیموتھراپی کا منصوبہ تیار کیا جس کا مقصد رسولی کا حجم کم کرنا اور اس کے جسم کے دیگر اعضاء کے ساتھ جڑے ہوئے عمل کو ڈھیلا کرنا تھا۔ تاہم کیموتھراپی کے 3 مراحل کے بعد بھی رسولی کے حجم میں کو ئی فرق نہیں آیا اور اس کے سکڑنے کے نتائج توقعات کے مطابق نہیں تھے۔ یوں علاج ایک مشکل مرحلے پر پہنچ گیا اور سرجری کے امکانات بھی بہت کم رہ گئے۔

زیادہ بہتر تشخیص اور علاج کے منصوبے کی تلاش میں محترمہ ایم کے اہل خانہ نے طبی تحقیقی مواد کا جائزہ لیا، جس سے انہیں معلوم ہوا کہ فودان یونیورسٹی شنگھائی کینسر سینٹر میں بیضہ دانی کے کینسر کے لیے جامع قبل از آپریشن تشخیصی نظام موجود ہے اور وہاں بیضہ دانی کے پیچیدہ اور آخری مرحلے کے کینسر میں مبتلا متعدد مریضوں کا کامیابی سے علاج کیا جا چکا ہے، جبکہ ایسے مریضوں کی 5 سالہ بقا کی شرح 50 فیصد تک پہنچتی ہے۔

چنانچہ ابتدائی ای میل رابطے کے بعد اہل خانہ نے علاج کے لیے پاکستان سے شنگھائی جانے کا فیصلہ کیا۔

وو نے کہا، "مریضہ کے جامع معائنے کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ صورتحال امید افزا نہیں تھی۔” انہوں نے نشاندہی کی کہ سرجری میں بنیادی چیلنج یہ تھا کہ کئی کلوگرام وزنی رسولی کو اس طرح مکمل طور پر نکالا جائے کہ جسم میں مجموعی طور پر کوئی باقی ماندہ رسولی نہ رہے، جبکہ اعضا کے افعال کو بھی برقرار رکھا جائے، جو ایک بڑا چیلنج تھا۔

درست اور مئوثر سرجری کو یقینی بنانے کے لیے چینی طبی ٹیم نے مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل مشاورتی اجلاس منعقد کیا جس سے بعد میں ہونے والی 5 گھنٹے طویل سرجری کے لیے مضبوط بنیاد فراہم ہوئی اور مریضہ کی 5سالہ بقا کی شرح بہتر بنانے کی راہ ہموار ہوئی۔

محترمہ ایم کو سرجری کے 2 ہفتے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا اور ہسپتال میں کیموتھراپی کا ایک مرحلہ مکمل کرنے کے بعد وہ پاکستان واپس آگئیں۔ ان کے اہل خانہ نے کہا، "ہم ان کی سرجری کے شاندار نتائج پر بے حد شکر گزار اور خوش ہیں۔”

بغیر اسٹوما کے سی اونتیجہ حاصل کرنا واقعی ایک غیر معمولی کامیابی ہے، جس نے ہماری والدہ کو زندگی کی نئی امید دی ہے۔ ہسپتال میں قیام کے دوران بیرونِ ملک موجود ان کے اہل خانہ نےاسپتال کے نام ایک خصوصی شکریہ کا خط بھیجا۔

فی الحال محترمہ ایم علاج کا پہلا مرحلہ مکمل کر چکی ہیں اور دوسری بار کے علاج کے لیے ادویات لے کر اپنے آبائی شہر واپس آگئی ہیں۔ دونوں مراحل مکمل کرنے کے بعد وہ فالو اَپ معائنے کے لیے دوبارہ شنگھائی واپس جانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ ان کے اہل خانہ نے کہا، "ہم چین میں مئوثر علاج حاصل کرنے پر بہت شکر گزار ہیں۔”

ملک بھر میں بیضہ دانی کے کینسر کے سب سے زیادہ مریضوں کا علاج کرنے والے طبی اداروں میں شامل فودان یونیورسٹی شنگھائی کینسر سینٹر نے 2025 میں بیضہ دانی کے کینسر کی 2200 سے زائد سرجریاں کیں، جو شنگھائی میں اسی نوعیت کی مجموعی سرجریوں کا 40 فیصد سے زیادہ ہیں۔

وو نے کہا، "حالیہ برسوں میں بیرونِ ملک سے آنے والے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جو قازقستان، ملائیشیا، امریکہ اور آسٹریلیا سمیت مختلف ممالک سے آتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں ان میں سے زیادہ تر مریض بیرونِ ملک طبی معاون اداروں یا بین الاقوامی ریفرل چینلز کے ذریعے آتے تھے، تاہم اب وہ زیادہ تر خود ہی ہسپتال سے رابطہ کرتے ہیں، جبکہ بعض مریض یا ان کے اہل خانہ علمی و طبی تحقیقی مواد سے معلومات حاصل کرکے ہسپتال تک پہنچتے ہیں۔

وو نے کہا کہ یہ رجحان بالواسطہ طور پر چین کی طبی سائنس اور طبی عملی خدمات میں مسلسل پیش رفت کا عکاس ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتال مزید بیرونِ ملک مریضوں کی معاونت کے لیے اعلیٰ معیار کی جامع طبی خدمات فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں