بیجنگ (شِنہوا) چین کے نائب وزیر تجارت یان ڈونگ نے بتایا کہ 2026چائنہ بین الاقوامی خدمات تجارتی میلہ (سی آئی ایف ٹی آئی ایس) کے تمام ضروری انتظامات مکمل کیے جا چکے ہیں۔
یان ڈونگ نے جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ رواں برس سی آئی ایف ٹی آئی ایس 9 سے 13 ستمبر تک بیجنگ میں منعقد کی جائے گی۔ اس میں 90 سے زائد ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں سمیت 1,800 سے زائد کمپنیاں شرکت کریں گی۔ یہ تقریب تمام شرکا کو اپنی اعلیٰ معیار کی خدمات فراہم کرنے، ان کی تجارت کرنے اور چینی منڈی میں موجود مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔
یان ڈونگ کے مطابق نمائش میں پہلی بار ایسے شعبے بھی متعارف کرائے جا رہے جو بین الاقوامی سطح پر قدم جمانے والی چینی کمپنیوں کو پیشہ ورانہ معاونت فراہم کریں گے تاکہ عالمی منڈی تک معیاری چینی خدمات کی رسائی ممکن بنائی جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ چین چونکہ خدمات کی تجارت میں بگ ڈیٹا، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید ذرائع کا استعمال بڑھا رہا ہے، اس لیے 2026 کی سی آئی ایف ٹی آئی ایس کی بنیاد مالیاتی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل اور ذہین نظامِ صحت سمیت توانائی کی بچت و ماحولیاتی تحفظ جیسے شعبوں میں جدید ترین پیش رفت کو نمایاں کرنے پر ہو گی۔
تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون کا معیار بہتر بنانا چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کا ایک بنیادی ہدف ہے، اس منصوبے کے تحت اشیاء اور خدمات کی تجارت کو مساوی اہمیت دیتے ہوئے درآمدات و برآمدات کے درمیان بہتر آہنگی پیدا کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
وزارتِ تجارت کے مطابق 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران خدمات کے شعبے میں چین کی تجارتی کارکردگی بہترین رہی جس دوران کل درآمدات و برآمدات 8.3 فیصد سالانہ اضافے کے ساتھ 38 کھرب یوآن (تقریباً 560.4 ارب امریکی ڈالر) تک پہنچ گئیں۔ خاص طور پر خدمات کی برآمدات میں 17.6 فیصد بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو غیر ملکی تجارت کی نمو میں اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔
یان ڈونگ نے کہا اگر پورے سال کو مد نظر رکھا جائے تو چین کی خدمات کی تجارت میں مجموعی طور پر مثبت رجحان جبکہ خدمات کی برآمدات میں اضافے کی رفتار برقرار رہنے کی قوی امید ہے۔


