بیجنگ (شِنہوا) چین کے صدر شی جن پھنگ 30 اگست سے 3 ستمبر تک شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہ اجلاس 2026 میں شرکت کے لئے بشکیک کا دورہ کریں گے اور کرغزستان اور مصر کے سرکاری دورے بھی کریں گے۔
تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے کے تناظر میں شی کے آئندہ دورے سے تمام فریقوں کے درمیان تعاون کو فروغ ملنے اور عملی تعاون کو مزید گہرا کرنے کی توقع ہے۔ اس دورے کے ذریعے گلوبل ساؤتھ کی مشترکہ طاقتوں کو یکجا کرتے ہوئے عالمی نظم و نسق میں اصلاحات کو آگے بڑھانے، عالمی امن و ترقی کو فروغ دینے اور انسانیت کے لئے مشترکہ مستقبل کی حامل کمیونٹی کی تشکیل میں معاونت کی راہ ہموار ہوگی۔

چین کے مشرقی صوبے شان ڈونگ کے شہر چھنگ ڈاؤ میں چین-ایس سی او مقامی اقتصادی و تجارتی تعاون کے ڈیمونسٹریشن ایریا کے ملٹی ماڈل ٹرانسپورٹ مرکز پر ایک مال بردار ٹرین کی آمد کا فضائی منظر۔(شِنہوا)
چین کے مشرقی صوبے شان ڈونگ کے شہر چھنگ ڈاؤ میں چین-ایس سی او ڈیمونسٹریشن ایریا میں مال بردار ٹرینوں کی قطاریں وسطی ایشیا اور یورپ روانگی کے لئے تیار کھڑی ہیں، جو ایس سی او تعاون کی بڑھتی ہوئی فعالیت کا ایک نمایاں عملی ثبوت ہے۔
باہمی اعتماد، باہمی مفاد، مساوات، مشاورت، مختلف تہذیبوں کے احترام اور مشترکہ ترقی کے حصول پر مبنی ’’شنگھائی جذبے‘‘ کی رہنمائی میں ایس سی او اپنے 6 بانی ارکان سے بڑھ کر 27 ممالک پر مشتمل خاندان بن چکی ہے۔ مضبوط زندگی اور وسیع کشش کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ تنظیم بین الاقوامی تعلقات کی ایک نئی نوعیت کے نمونے کے طور پر نمایاں ہوئی ہے۔
شی نے گزشتہ سال چین کے شمالی ساحلی شہر تیانجن میں ایس سی او کے سربراہان مملکت کی کونسل کے 25 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیچھے مڑ کر دیکھیں تو ہم نے اپنے سفر میں آنے والے طوفانوں کا ثابت قدمی سے مقابلہ کیا اور مزید مضبوط ہو کر ابھرے، کیونکہ ہم نے ’شنگھائی جذبے‘ کی پاسداری کی ہے۔
شی نے 2013 سے اب تک ایس سی او کے ہر سربراہ اجلاس میں شرکت کی ہے اور اس دوران مسلسل تنظیم کی ترقی کی سمت متعین کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے متعدد مواقع پر ’’شنگھائی جذبے‘‘ کو آگے بڑھانے اور مشترکہ مستقبل کے حامل ایس سی او کی مزید مضبوط برادری تشکیل دینے پر زور دیا ہے۔


